
نئی دہلی، 23 مارچ(میرا وطن نیوز)
اس سال پیش کیے گئے اقتصادی سروے برائے 2025-26 کی بنیاد پر دہلی سرکار کی معیشت، ٹرانسپو ر ٹ، پانی اور صحت کے شعبوں کے انتظام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے پردیش کانگریس صدر دیو یند ر یادو نے کہا کہ راجدھانی کی صورتحال دن بہ دن تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ریاستی صدر نے نشا ندہی کی کہ ریکھا گپتا سرکار گزشتہ سال اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہو ئے سال 2024-25 کا اقتصا دی سروے پیش کرنے میں ناکام رہی۔ اقتصادی سروے برائے 2025-26 ، جو اس سال پیش کیا گیا، دہلی کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کئی اہم اعدادوشمار کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ درحقیقت، ایسا لگتا ہے جیسے پچھلے سال کے اقتصادی سروے کے لیے اصل میں مرتب کیے گئے ڈیٹا کو اس سال صرف معمولی ترمیم کے ساتھ دوبارہ پیک کیا گیا ہے اور پیش کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ دہلی کی حقیقی جی ڈی پی ترقی کی شرح 2023-24میں 9.63 فیصد سے گھٹ کر 2024-25 میں محض 6.23 فیصد رہ گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کی سرکار کے پورے دور میں، دہلی کی جی ڈی پی ترقی قومی اوسط سے مسلسل پیچھے رہی ہے۔ مزید برآں، جبکہ 2025-26کے لیے مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کی شرح نمو 9.42 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، یہ اعداد و شمار سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کی قیادت والی کانگریس سرکار کے دور میں حاصل کی گئی مضبوط 13.43 فیصد شرح نمو سے نمایاں طور پر کم ہے۔
دیویندر یادو نے مشاہدہ کیا کہ یہ پچھلے 14 سالوں میں پانچویں مثال ہے جہاں دہلی کی اقتصادی ترقی کی شرح دوہرے ہندسے سے نیچے گر گئی ہے – یہ رجحان جو راجدھانی کی اقتصادی رفتار میں مسلسل گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ فی کس آمدنی کی شرح نمو بھی اب سکڑ کر سنگل ہندسوں پر آ گئی ہے، جبکہ شیلا دکشت سرکار کے دور میں یہ مسلسل دوہرے ہندسے میں رہی۔
No Comments: