Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

راستوں پر نماز ادا کرنا اور بیٹھنا ، بازاروں اور غیر ضروری امور میں وقت ضائع کرنا اسلام میں سختی سے منع ہے

رمضان المبارک کے آخری ایام اور عید الفطر کی مناسبت سے مولانا محمدرحمانی کی مسلمانوں سے اپیل

نئی دہلی ،18مارچ (میرا وطن نیوز)
ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر معروف عالم دین مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے رمضان المبارک کے آخری ایام اور عید الفطر کی آمد کی مناسبت سے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں مسلمانوں سے چند اپیلیں کی گئی ہیں۔
اس موقع پر مولانا رحمانی نے اپیل کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستوں پر نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے اور اگر کبھی مجبوری میں ایسا کرنے سے گزرنے والوں کو تکلیف کا اندیشہ یا کسی کے جذبا ت کو ٹھیس پہونچنے کا خدشہ ہو تو اس ممانعت میں مزید شدت آجاتی ہے۔ راستہ عام لوگوں کا حق ہے اس لیے اس پر عبادات نہیں کی جانی چاہیے۔ اور اگر کہیں مساجد تنگ ہیں تو جمعہ اور عیدیں کی دو جما عتیں کی جا سکتی ہیں تاکہ سڑک پر نماز پڑھنے یا راستوں کو جام کرنے کی نوبت نہ آئے۔
مولانا نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستوں پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے اور اگر مجبوری کی وجہ سے بیٹھنا پڑ جائے تو راستوں کے حقوق ادا کرنے کا خصوصی خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، مثلا نگاہیں پست رکھی جائیں ، اذیت اور تکلیف کے تمام اسباب سے مکمل پرہیز کیا جائے ، سلام اور اس کے جواب کا خیال رکھا جائے اور اچھائیوں کا حکم اور برائیوں سے روکنے کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے کو کار ثواب قرار دیا ہے۔
مولانا نے کہا کہ مساجد سے دوری اور بازاروں میں وقت ضائع کرنا بھی ایک خراب عادت ہے جسے اللہ نے سخت نا پسند فرمایا ہے۔ ہمیں اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ لیکن مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ رمضان کے قیمتی ایام کو بازاروں میں برباد کر دیتا ہے۔اور دوسری جانب مساجد میں شور وغوغا اور نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیوں کا مساجد میں ریل بنانا اور موبائل فون کا استعمال کرنا عام سی بات ہو گئی ہے ، جبکہ مساجد میں بلا کسی شرعی ضرورت کے کیمرے کا استعمال حرام ہے۔ اور اب تو صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ نماز چلتی رہتی ہے اور لوگ ویڈیو بنانے میں لگے رہتے ہیں اور حرام کام کا ارتکاب بھی کرتے ہیں ، عبادات کا کھلواڑ بھی بناتے ہیں اور اللہ کے غضب کو بھی مول لیتے ہیں۔
مولانا رحمانی نے یہ اپیل بھی کی کہ غیر ضروری امور میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔ انسان کے اخلاقی ڈھانچہ کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو بھلی بات کرے یا خاموش رہے ، اپنے سے غیر متعلقہ امور کو چھوڑ دے ، غصہ کرنے سے اجتناب کرے اور اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو خود کے لیے پسند کرتا ہے۔
مولانا نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہر مسلمان سارے زمانہ کا درد اپنے سر پر لاد کر چلتا ہے اور ہر وقت ایران تو ران کی باتیں کرتا ہے ، غیر متعلقہ امور میں وقت ضائع کرتا ہے اور غیر معتبر خبروں کو بنیاد بنا کر دنیا کو سر پر اٹھا لیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مصائب اور پریشانیوں پر ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے زیا دہ خود کا احتساب کرنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں جو مشکلات لاحق ہوتی ہیں وہ ہماری بدا عمالیوں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں لہٰذا ہمیں خود کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔
مولانا نے مسلمانوں سے ان امور پر توجہ دینے اور ایک ذمہ دار مسلمان اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کرنے کی اپیل کی اور مساجد کے حقوق ، اخلاقی امور کی حفاظت ، راستوں پر نماز پڑھنے اور بیٹھنے سے اجتناب کی اپیل کی۔ نیز رمضان کی عبادات کی قبولیت اور عید الفطر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *