
نئی دہلی، 19 مئی (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلی اروند کجریوال اور دہلی ایکسائز اسکام معاملے میں چھ دیگر ملزمین کے خلاف شروع کی گئی توہین عدالت کی کارروائی کی سماعت کرتے ہوئے سبھی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی میں بنچ نے انہیں چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 4 اگست کو ہوگی۔
ہائی کورٹ نے رجسٹری کو توہین آمیز مواد محفوظ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ 14 مئی کو جسٹس سورن کانتا شرما کی سربراہی والی بنچ نے کیجریوال اور چھ دیگر ملزمین کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ جسٹس سو رن کانتا شرما کی بنچ نے کیجریوال، سنجے سنگھ، منیش سسودیا، سوربھ بھاردواج، ونے مشرا، اور درگیش پاٹھک کو توہین کا نوٹس جاری کیا تھا۔ جسٹس سو رن کانتا شرما کی بنچ نے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا اور اسے سماعت کے لیے دوسری بنچ کے پاس بھیج دیا۔ جسٹس شرما کی بنچ نے کہا تھا کہ اگر ان ملزمین کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو انتشار پھیلے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی ادارے پر مقدمہ چلایا جاتا ہے تو یہ جج کا فرض ہے کہ وہ ان الزامات سے متا ثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو سوشل میڈیا مہم کا علم ہوا، جسے خطوط اور ویڈیوز کے ذریعہ بڑے پیما نے پر پھیلایا گیا۔ یہ ایک منظم مہم تھی۔ جسٹس شرما نے کہا کہ عدالت کے باہر عدالت کے اندر ہو نے والی کارروائی کے متوازی بیانیہ بنایا گیا تھا۔ جسٹس شرما نے کہا کہ انہیں منصفانہ تنقید اور اختلاف رائے کو قبول کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا مہم نے نہ صرف ایک جج کے خلاف بیانیہ بنایا بلکہ پوری عدلیہ کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ بیانیہ چلانے والے کچھ لوگ سیاسی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ ایک ترمیم شدہ ویڈیو گردش کر رہی تھی۔
جسٹس شرما نے کہا کہ جب انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تو ان کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا آپشن تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، اس کے بجائے ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلائی گئی۔ جسٹس شرما نے کہا کہ ان کا فرض آئین کا ہے۔ جب انہوں نے یہ راستہ چنا تو اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے اندر کیجریوال نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں، لیکن باہر انہوں نے ہمارے خلاف مہم چلائی۔
20 اپریل کو، جسٹس سو رن کانتا شرما نے اروند کجریوال کی دہلی ایکسائز کیس میں بریت کے حکم کے خلاف سی بی آئی کی درخواست کی سماعت سے خود کو الگ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ جسٹس سو رن کانتا شرما نے کہا کہ میں اس الزام سے متاثر ہوئے بغیر اپنا فیصلہ سناو ¿ں گا، جیسا کہ میں نے اپنے 34 سالہ عدالتی کیریئر میں ہمیشہ کیا ہے۔
No Comments: