Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

گائے کو قومی جانورکا درجہ دینے میں سرکارکو ترددکیوں؟

گائے کے نام پر ہجومی تشددانسانوں کا قتل اوراس پر ہورہی سیاست کے مذموم سلسلہ کو اب بند ہونا چاہئے:مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی،20 مئی (میرا وطن نیوز)
جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے ایک بارپھر کہا ہے کہ گائے کو قومی جانورکا درجہ دیا جاناچا ہئے ، مسلمانوں کو اس پر کوئی اعترض نہ ہوگابلکہ انہیں خوشی ہوگی کہ اب گائے کے نام پر ہونے والا ہجومی تشددبند ہوجائے گا۔
مولانا ارشد مدنی نے سوال کیاکہ ملک کی اکثریت گائے کو مقدس ہی نہیں سمجھتی بلکہ اسے ما ں کادرجہ بھی دیتی ہے، ایسے میں کیا سیاسی مجبوری ہے کہ اسے قومی جانورکا درجہ دینے سے سرکارکتر ار ہی ہے ؟ یہ مطا لبہ ہم ہی نہیں بلکہ کئی سادھوسنت بھی کررہے ہیں، اب اگر اس کے بعد بھی سرکاراس کو لیکرسنجیدہ نظرنہیں آتی تو اس کا کیا مطلب نکالاجائے۔مولانا مدنی نے آگے کہا کہ یہ ایک ایساسیاسی اورجذباتی مسئلہ بنادیاگیاہے کہ کچھ لوگ منصوبہ بند طریقہ سے گاو ¿ں کشی کی افواہ پھیلاکر یاجانوروں کی اسمگلنگ کے نام پر بے گناہوں کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بناڈالتے ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا ’ افسوسناک پہلویہ ہے کہ گائے کانام لیکر مسلسل جھوٹ اورافواہیں پھیلاکر ملک بھرمیں مسلمانوں کی شبیہ کو کچھ اس قدرخراب کردیاگیا ہے کہ اکثریت کا ایک بڑاطبقہ مسلمانوں کوگائے کا دشمن سمجھنے لگاہے، ہجومی تشددکی ایک بڑی اوربنیادی وجہ بھی یہی ہے، لیکن ایساہرگزنہیں ہے، اس سے پہلے مسلمان بڑی تعدادمیں گائے پالتے اوراس سے دودھ حاصل کرتے تھے، لیکن 2014کے بعد ملک میں نفرت کا جو ماحول پیداکیا گیا اس کے بعد مسلمان محتاط ہوگئے اوراب ان کی اکثریت گائے کی جگہ بھینس پالنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیة علماءہند کے ممبئی کے اجلاس عام میں سادھو سنتو ں اور مختلف مذاہب کے رہنماو ¿ں کے ساتھ ہم نے 2014میں بھی ملک میں امن اوراتحاد کے قیام کی غرض سے یہ مطالبہ کیاتھا کہ گائے کوقومی جانورکا درجہ دے دیاجائے، جمعیةعلماءہند آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد سے مسلمانوں کو مسلسل یہ مشورہ دیتی آئی ہے کہ ہمیں ایساکچھ بھی نہیں کرنا چاہئے جس سے برادران وطن کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتابلکہ کثیرمذہبی ملک میں اسلام باہمی احترام کے ساتھ زندگی بسرکرنے کا مطالبہ کرتاہے۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیت علماءہند اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کو مسلسل یہ پیغام دیتی آئی ہے کہ وہ ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے گریز کریں ۔ہرسال عیدالاضحی کے موقع پر جمعیت علماءہند کی طر ف سے جو اشتہاراخباروں میں شائع کرایاجاتاہے اس میں صراحت کے ساتھ اس پر اصراربھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے گائے کولیکر دوہرے قانون پر نہ صرف اپنی گہری تشویش کا اظہارکیا بلکہ یہ بھی کہا کہ یکسا ں سول کوڈکے تعلق سے زوروشورسے یہ پروپیگنڈہ ہورہاہے کہ ملک ایک ہے توقانون بھی ا یک ہونا چاہئے، لیکن ملک میں ذبیحہ کاجو قانون ہے وہ تمام ریاستوں میں یکساں طورپر نافذنہیں ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ملک میں ایسی بہت سی ریاستیں ہیں جہاں کھلے عام گائے کا گوشت کھایا جاتاہے، وہاں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے، ایک مرکزی وزیرتواپنے ایک انٹرویومیں اس بات کا اعراف کرچکے ہیں کہ وہ بیف کھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات تویہ ہے کہ ان ریاستوں میں بی جے پی اقتدارمیں ہے، اوراس سے زیادہ حیرت انگیز بات تویہ ہے کہ جو لوگ ملک بھر میں گائے کے نام پر ہجومی تشددبرپاکرکے انسانو ں کی جان تک لے لیتے ہیں وہ بھی اس پر خاموش، یہاں تک کہ قانون کے اس امتیازی پہلوپر کبھی کوئی بحث نہیں ہوتی اورنہ ہی کوئی اس کے خلاف آوازاٹھاتاہے، آخرکیو
ں ؟
مولانا مدنی نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے یہ معاملہ ضرور اٹھا تھا اس وقت بی جے پی کے ایک لیڈرنے بیان دیا تھا کہ ان ریاستوں میں گائے نہیں متھن کاگوشت کھایا جاتاہے،جسے عرف عام میں جرسی گائے کہا جاتاہے، گویا اپنی سیاست کے لئے انہوں نے گائے میں بھی تفریق پیداکرلی ہے، ایسے میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اس بات کاکیا ثبوت ہے کہ ان ریاستوں میں لوگ جرسی گائے کا ہی گوشت کھاتے ہیں ، افسوسناک سچائی یہ ہے کہ جن ریاستوں میں مسلمانوں کی قابل قدرآبادی ہے، وہاں فرقہ پرستوں کی نظرمیں گائے کو تقدس حاصل ہے، اورجن ریاستوں میں دوسری قومیں آبادہیں یاجہاں بی جے پی کا اقتدارہے وہاں گائے متھن بنادی جاتی ہیں، ان لوگوں کو گائے سے کوئی عقیدت نہیں ان کو سیاست پیاری ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس طرح کی سیاست سے ہی لوگوں کو مشتعل کرکے مسلمانوں کے خلاف متحد کرکے ووٹ بٹوراجاسکتاہے، ایسے بہت سے جذباتی اورسیاسی ایشوزہیں جن کو ووٹ کے لئے عین الیکشن کے دورا ن اٹھادیاجاتاہے ان میں گائے کی سیاست بھی ہے، بہرحال ہمیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں کہ کون سی گائے تقدس کے درجہ میں شامل ہیں اورکون سی نہیں، ہم تویہ چاہتے ہیں کہ گائے کو قومی جانور (راشٹریہ پشو)کا درجہ دیکر اس تنازعہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیاجائے، اوراس کے لئے جو قانون بنایاجائے اسے ملک کی تمام ریاستوں میں بلاتفریق نافذ کیاجائے، اس میں کسی طرح کی تفریق نہیں ہونی چاہئے، انصاف کا تقاضایہی ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *