Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مہرولی واقع قبرستا ن کی ا ر ا ضی پر غیر قانونی قبضہ کرنے کا معاملہ سامنے آنے پر مچا ہڑکمپ

جامع مسجد سون برج وارڈ نمبر 8خسرہ نمبر 115/3مین روڈمہرولی پر ہے قدیمی قبرستان

بلڈر مافیا ﺅں کے ذریعہ کپڑے کی چادروں سے ڈھانپ کر اراضی پر کیا جا رہا ہے قبضہ
ایل جی ،مرکزی وزیر اقلیتی امور اوروزیر اعظم نریندر مودی سے معاملے میں مداخلت کا مطالبہ
حالیہ مہرولی معاملہ سمیت دیگر وقف املاکوںکے تحفظ کو لے کرکورٹ سے کریں رجوع :حافظ محمد جاوید

نئی دہلی ،5اپریل (میرا وطن نیوز )
قومی راجدھانی میں وقف جائیدادوں پر جہاں سرکاری اور غیر سرکاری اکائیوںکے ذریعہ قبضے کئے جا نا عا م بات ہے ،وہیں وقف املاکوں کے ارد گرد رہائش پذیر رسوخ دار اور بلڈر مافیا بھی وقف جائیدادوں
پر قبضے کرنے میں پیچھے نہیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پرائم لوکیشن پرواقع وقف جائیدادوں پر مسلسل قبضے کئے جا رہے ہیں۔حالیہ میں جامع مسجد سون برج وارڈ نمبر 8خسرہ نمبر 115/3مین روڈ مہرولی قبرستا ن کی ا ر ا ضی پر غیر قانونی قبضہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔حالانکہ قدیمی مسجد اور قبرستان کی اراضی پر سال 2006 میں قبضے کی کوشش ہورہی ہے جس کی شکایت 24فروری 2025کو بھی کی گئی ۔اس معا ملے کے سامنے آنے پر مسجد اور قبرستان سے منسلک افرادکے ساتھ ساتھ کچھ سماجی اورملی رہنماﺅ ںنے بھی دہلی کے لیفٹیننٹ گور نر اورمرکزی وزیر اقلیتی امور سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی سے مدا خلت کی اپیل کی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ قومی راجدھانی میں وقف املاک کی نگرانی کرنے والا دہلی وقف بورڈ کئی سالوں سے تشکیل نہیں ہے اورموجودہ وقت میں اس طرح کے قبضوں کے لئے ڈی جے بی کو ہی ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے ۔حالانکہ دہلی وقف بورڈ تشکیل ہونے کے وقت بھی سرکاری ،غیر سرکاری اکائیوںکے ساتھ بلڈ ر مافیاﺅں کے ذریعہ وقف جائیدادوں پر قبضے کرنے کی معاملے عام تھے اور اس کی وجہ وقف بورڈ کی لا پرواہی اور عہدیداروں اور اسٹاف میں بدعنوانی کا بول بالا بتایا جاتا ہے۔ وقف املاک پر دہلی میں چا ہے کانگریس کی سرکار رہی ہو یا پھر بی جے پی یا پھر عام آدمی پارٹی کی ،تینوں سرکاروں کی مدت کار میں وقف املاکوں کو غیر قانونی طریقہ سے لیز پر دینے اور قبضے کرانے کے الزام ان کے چیئر مین اور دیگر عہدیداراوں کے ساتھ اسٹاف پر لگتے رہے ہیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ تین دن پہلے جامع مسجد سون برج وارڈ نمبر 8خسرہ نمبر 115/3مین روڈ مہرولی قبرستا ن کی ا ر ا ضی پر غیر قانونی قبضہ کرنے کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ بلڈر مافیا کے ذ ریعہ اس قدیمی مسجد اور قبرستان کی اراضی پر غیر قانونی قبضے کی شروعات کردی گئی ہے ۔اس غیر قانونی قبضے کا پتہ نہیں لگے باقاعدہ طور پر کپڑے کی چادر کے توسط سے چھپایا جا رہا ہے ۔بتایا جا رہا ہے کہ اس کا م میں سرکاری انتظامیہ اور پولیس کی حمایت بھی بلڈر مافیا کو حاصل ہے ۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے قابضین میں ہندو اور مسلم بلڈر مافیا شامل ہیں ۔بتایا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی سطح بغیر انتظامیہ کی سپورٹ سے وقف جائیدادوں پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔یہ وقف جائیداد قدیمی ہے جس میں قبریں بھی موجود ہیں لیکن قابضین کونہ ہی قبروں سے لینا دینا ہے اور نہ ہی مسجد کے تقدس اورنہ ہی قبرستان کو پامال کرنے کا ہی خوف ہے ۔
اس معاملے کے روشنی میں آنے پر معروف اسلامی اسکالر حافظ محمد جاوید نے کہا کہ وہ دہلی کے لیفٹیننٹ گور نر ، مرکزی وزیر اقلیتی امور اور پارلیمانی وزیر کرن رجیجو اور وزیر اعظم نریندر مودی جی کو ملک کی را جد ھانی دہلی میں وقف املاک پر مسلسل ہورہے قبضوں سے واقف کرائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ مہرولی کا معاملہ سمیت دیگر وقف املاکوں پر ہورہے قبضوں کے معاملے میں مداخلت کی مانگ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ عنقریب ہی مرکزی وزیر کرن رجیجو سے ملاقات کرکے راجدھانی کی وقف املاکوں کے تحفظ کے متعلق میمورنڈم بھی دیں گے ۔
حافظ محمد جاوید نے کہا کہ ملک اور قومی راجدھانی میں وقف جائیدادوں،مساجد ،درگاہوں ،خانقاﺅں او رقبرستانوں پر سرکاری اور غیر سرکاری اکائیوں کے ساتھ بلڈر مافیا کی نظریں رہی ہیں کہ کسی طرح ان وقف اد اروں کی املاک پر قبضے کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ مہرولی میں قبرستان کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کرنا بھی اسی مہم کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مہرولی قبرستان کی اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی وجیلنس انکوائری کی جائے اور اس معاملے میں جو جو لوگ ملوث ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کار روائی بھی کی جائے ۔ حافظ محمد جاوید نے کہا کہ ایل جی ،مرکزی وزیر اور وزیر اعظم سے تو مطالبہ کر ہی ر ہے ہیں،اس کے ساتھ ہی وہ وقف املاک کے تحفظ کے لئے کورٹ بھی جائیں گے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *