Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مسلم اکثریتی علاقوں کی اہم سڑکوں پرانکروچمنٹ بنا لوگوں کے جی کا جنجال

پرانی دہلی ،شمال مشرقی دہلی اور جنوبی دہلی کے مسلم علاقوں میں لوگ پریشان

جامع مسجد ،اوکھلا اورسیلم پورعلاقے کے بازاروں کی سڑکوں پر نکلنا ہوا دوبھر
شاہین باغ چالیس فٹا روڈ پر انکروچمنٹ کرنے والوں کے خلاف مہم شروع

نئی دہلی ،12مارچ (میرا وطن نیوز )
ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا ہے ،حالانکہ چاندرات سے ہی راجدھانی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں چہل پہل شروع ہوگئی تھی ۔پرانی دہلی ،شمال مشرقی دہلی اور جنوبی دہلی و دیگر کئی علاقوںکو بھی روشنی سے جگمگایا گیا تھا ۔بہر حال اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ ایران پر حملہ کئے جانے اور اس کے بعد ایران کے ذریعہ ان دونوں صہیونی طاقتوں اور ان کے مڈل ایسٹ کے مسلم ممالکوں میں قائم ملٹر ی بیس پر تابڑ توڑ حملوں کا چرچہ ہر عام و خاص کی زبان پر تو ہے لیکن لوگوں کی خریداری اور مختلف پکوا نو ں کے ذائقوں کا لطف اٹھانے میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم اکثریتی بازاروں میںمسلسل بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے ۔اس مقدس مہینے میں شاہین باغ کا 40فٹا روڈ سرخیوں میں ہے جہاں زیادہ بھیڑ امڈنے اور کئی طرح کا انکروچمنٹ ہونے کی وجہ سے حالات بے قابو ہوچکے ہیں اور پچھلے دنوںپولیس کو لاٹھی چارج تک کرنا پڑا ہے ۔
اوکھلا اسمبلی حلقہ کے ابو الفضل انکلیو وارڈ کے تحت شاہین باغ ہمیشہ سرخیوں میں بنا رہتا ہے ۔خاص طور پر شاہین باغ کا 40فٹہ روڈ ،جس کا اندرونی حصہ جہاںفوڈ ہب بن چکا ہے تو وہیںاس کا باہری حصہ لا جپت نگر کی سینٹر ل مارکیٹ کی شکل میں منی سینٹرل مارکیٹ کے طور پر ڈیولپ ہوچکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس مشہور ہوچکے40 فٹا روڈ پر دن ہو یارات خریداری کرنے والے اور کھانوں کے ذائقوں کا لطف اٹھا نے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں اور ہوٹل مالکان نے اپنی دکانوں /شوروم اورہوٹل /ریسٹورینٹ کے سامنے انکروچمنٹ کر مختلف طرح کے ٹھیالگوانے شروع کر دیے جس کی وجہ سے ہر وقت یہاں ٹریفک جام کی صورتحال بنی رہتی ہے اور کسی ایمر جنسی میں اسپتال تک وقت رہتے نہیں پہنچا جا سکتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دکاندار وں ،شوروم مالکوں اور ہوٹل مالکوں نے اپنی اپنی دکانوں اور ہوٹلوں کے سامنے ٹھیے لگوائے ہوئے ہیں ۔ان میں ایک ٹھیا ہزاروں سے لے کر ایک لاکھ تک اٹھایا گیا ہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ یہ ٹھیے عام و خاص لوگوں کی آمدرفت کی سڑک پر لگوائے گئے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ ان ٹھیوں کو دکاندار،شو روم مالک اور ہوٹل مالکوں کے علاوہ مقامی دبنگ سفید پوش لوگ بھی لگوا رہے ہیں اور ٹھیا لگا نے والوں سے موٹی رقم وصول رہے ہیں ۔الڑام ہے کہ مقامی تھانہ پولیس کے اہلکار بھی ٹھیا لگوانے میں شامل ہیں اور سرکاری اکائیوں ایم سی ڈی /دہلی سرکار پر بھی ٹھیے لگوانے میں ملوث ہونے کی بات سامنے آرہی ہے ۔ان ٹھیوں کی شکایتیں مقامی منتخب نمائندوں اور شاہین باغ تھانہ پولیس اور ایم سی ڈی کے متعلقہ محکمہ سے بھی لوگوں کے ذریعہ کی گئی ہیں ۔
دلچسپ یہ ہے کہ ان غیر قانونی ٹھیوں کی وجہ سے چالیس فٹا روڈ آمدرفت کے لئے کچھ ہی فٹ کا رہ گیا ہے ۔انکروچمنٹ کی وجہ سے اس روڈ پر عام لوگوں کا نکلنا دو بھر ہوگیا ہے اور اگر یہاں چار پہیہ گاڑی آ جائے تب لوگوں کا یہاں چلنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے ۔ اس چالیس فٹا روڈ پر عام دنوں میں بھی ہجوم بنا رہتا ہے اور اب رمضان المبارک مہینے کے دوران یہاں پیر رکھنے کے بھی لالے پڑ رہے ہیں ۔چالیس ٹا روڈ کے اطراف میں رہنے والے لوگ خاصہ پریشان ہیں کسی ایمر جنسی میں لوگ اسپتال میں بھی وقت رہتے نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔اگر یہاںکوئی آگ زنی وغیرہ کا واقعہ پیش آجائے تب یہاں ان سے نمٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ماضی میں کئی واقعات پیش بھی آچکے ہیں لیکن کسی نے بھی سبق نہیں لیا ہے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *