
نئی دہلی، 22 مئی (میرا وطن نیوز )
اتم نگر قتل معاملہ (ایف آئی آر نمبر 122/26) میں دوارکا عدالت نے بے قصور نوجوان عمران عرف بنٹی ولد سیفی محمد کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ اسے محض ہم نام ہونے کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا تھا، وہ گز شتہ تین ماہ سے بے قصور بند تھا۔ مقدمہ کی پیروی جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر وکیل ایڈووکیٹ عبدالغفار نے کی۔
عدالتی کارروائی کے مطابق 5 مارچ کو زخمی مان سنگھ کے بیان پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں زخمی ترون کی موت کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔ مقتول کی والدہ کی شکایت پر متعدد افراد کے نام سامنے آئے جن میں ’عمران‘ کا نام بھی شامل تھا۔ اسی بنیاد پر عمران عرف بنٹی کو 8 مارچ کو ا ±تم نگر سے گرفتار کر لیا گیا۔
بعد کی تفتیش، متعدد گواہوں کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ عمران عرف بنٹی واردات میں شامل نہیں تھا بلکہ معاملہ کسی دوسرے عمران، یعنی ملزم عمران ولد عمردین سے متعلق تھا۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح طور پر کہا کہ عمران عرف بنٹی کے خلاف کوئی بھی قابل اعتبار یا مجرمانہ ثبوت موجود نہیں ہے، اس لیے اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ عدالت نے اس کی فوری رہائی کا حکم صادر کیا۔
عدالت نے اپنے سخت ریمارکس میں یہ بھی کہا باوجود کہ عمران عرف بنٹی غلط شناخت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا اور غیر قانونی حراست میں ہے، اس کی رہائی کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔ عدا لت نے اس معاملہ کو سنگین قرار دیتے ہوئے حکم کی نقل جوائنٹ کمشنر آف پولیس کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت دی تاکہ خاطی پولس محکمہ کے خلاف ضروری کارروائی کی جا سکے۔
No Comments: