
نئی دہلی،17مئی (میرا وطن نیوز)
بھوج شالا، جسے مسجد کمال مولیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، سے متعلق طویل عرصے سے جاری تناز ع پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر ملک کی ممتاز مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے گہری تشویش اور شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ کئی دہائیوں سے یہ مقام مشترکہ تاریخ اور بین المذاہب بقائے باہمی کی ایک حساس علامت رہا ہے۔ یہاں دونوں فرقوں کو ضابطے کے تحت رسائی دینے کا انتظام ایک نازک توازن اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے تھا۔ حالیہ فیصلے میں محکمہءآثارِ قدیمہ کی اجازت اور ایسے دعوو ¿ں ک کی بنا پر دروازہ کھولنے سے جو عبادت گاہ کی نوعیت کو تبدیل کر تے ہیں، ملک بھر کے مسلمانوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا ماننا ہے کہ یہ مقام صدیوں سے مسجد کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے اور مسلم برادری کے لیے گہری مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں کسی بھی تبدیلی سے فرقہ وارا نہ کشیدگی بڑھنے اور مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔یہ فیصلہ1991 کے عبادت گاہ (خصوصی التزامات) ایکٹ کی روح کے منافی ہے اور اس تعلق سے سنگین قانونی و آئینی سو الات اٹھاتا ہے، جس کا مقصد آزادی کے وقت موجود مذہبی مقامات کی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا۔یہ فیصلہ ملک کے دیگر تاریخی مذہبی مقامات پر بھی اثر انداز ہونے والی ایک تشویشناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت متعلقہ فریقین اور کمیونٹی قیادت سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف فوری طور پر معزز سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل دائر کی جائے۔ہم مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی اور اقلیتی مذہبی مقامات کے آئینی تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جب تک سپریم کورٹ حتمی فیصلہ نہ دے، اس مقام پر کسی قسم کی انتظامی یا ڈھانچہ جاتی تبدیلی نہ کی جائے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور اس حساس مسئلے کو سیاسی یا فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ہر کوشش کو روکنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اس بات کو دہراتی ہے کہ ہندوستان کی طاقت اس کی مشترکہ تہذیب اور سیکولر آئین و انصاف پر اٹوٹ استقامت میں ہے۔ ان اقدار کو نقصان پہنچانا ملک کے سماجی ڈھانچے کو کمزور کرے گا۔ہم تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ قانونی عمل جاری رہنے تک امن، صبر اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔
No Comments: