
نئی دہلی،19 مئی (میرا وطن نیوز)
سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے منگل کو ڈی این ڈی-فرید آباد-سوہنا کنٹرولڈ انٹری ہائی وے پروجیکٹ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد دہلی کو ٹریفک کے دبا ¶ اور جام کے مسئلے سے آزاد کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس کے تحت نئی کنٹرول شدہ شاہراہوں، رنگ روڈ، سرنگوں کے ذریعے دہلی کو مستقبل کی ضرور یات کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سے ایندھن کی بچت ہوگی، آلودگی میں کمی آئے گی، نقل و حمل کے نظام کو زیادہ موثر بنایا جائے گا اور اقتصادی ترقی میں تیزی آئے گی۔اس موقع پر دہلی کی وزیر اعلی ریکھا گپتا، سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وِزیر مملکت ہرش ملہو تر ا، اجے ٹمٹا، ایم پی رام ویر سنگھ بدھوڑی اور سابق ایم پی رمیش بدھوڑی بھی موجود تھے۔
اس موقع پر نتن گڈکری نے کہا کہ نئی کنٹرول شدہ شاہراہوں، رنگ روڈ، سرنگوں اور ایلیویٹڈ کوریڈورز کے ذریعے دہلی کو مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود کاموں کی رفتار کم نہیں ہوئی ہے اور انہوں نے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دہلی میں تقریبا 1.6 لاکھ کروڑ روپے کے سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے منصو بے جاری ہیں۔ اب تک تقریبا 87 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے 1050 کلومیٹر طویل سڑک کا کام مکمل ہو چکا ہے۔
نتن گڈکری نے کہا کہ اس کے علاوہ 13 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے 225 کلومیٹر لمبی سڑکوں پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ 34,500 کروڑ روپے کے آنے والے پروجیکٹوں پر بھی کام تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 25 سے 30 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کی تفصیلی پراجیکٹ رپورٹس تیار کر نے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ سرکارکے بنیادی مقاصد دہلی میں ٹریفک کے دبا ¶ کو کم کرنا، بھیڑ اور آلودگی کو کم کرنا، ایندھن کی بچت کرنا، نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنا، اور تیز تر مقامی نقل و حمل کا نظام فراہم کرنا ہیں۔
وزیر اعلی ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی میں نئی زندگی کی سانس لینے کا کام مرکزی حکومت اور نتن گڈکری نے کیا ہے۔ دہلی طویل عرصے سے ٹریفک اور آلودگی کے شدید مسائل سے دوچار تھا۔ اگر مرکزی سرکار اور سڑک نقل و حمل کی وزارت نے اتنے بڑے پیمانے پر کنٹرولڈ ہائی ویز اور دیگر سڑک منصوبوں کی تعمیر نہ کی ہوتی تو دہلی والوں کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوتی۔ پچھلے 12 سالوں میں صرف دہلی کے لیے تقریبا 1.31 لاکھ کروڑ روپے کے منصوبے دیے گئے ہیں، جس سے راجدھانی کے ٹریفک نظام میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی کو عالمی معیار، سبز اور پائیدار نقل و حمل کے نظام کی مثال بنانے کے لیے مرکز کی طرف سے کی گئی کوششیں تاریخی ہیں۔ ان پروجیکٹوں نے نہ صرف ٹریفک کے دبا ¶ کو کم کیا ہے بلکہ آلودگی کو کم کرنے اور ایندھن کی بچت میں بھی مدد کی ہے۔
ڈی این ڈی-فرید آباد-سوہنا کنٹرولڈ انٹری ہائی وے پروجیکٹ کی تعمیر کا کام 11 جنوری 2022 پر شروع ہوا۔ تقریبا 9 کلومیٹر کے اس حصے کو 7.5 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ کوریڈور اور 1.5 کلومیٹر سڑک کی سطح کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ پروجیکٹ کا سب سے پیچیدہ حصہ آگرہ کینال پر بنایا جا رہا 140 میٹر طویل اسٹیل نیٹ ورک آرک پل ہے۔ حکام کے مطابق یہ پل جدید تکنیکوں کے ساتھ تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں اسٹیل آرک ڈھانچہ، انٹرلاکنگ کراس انتظامات کے ساتھ ہینگر کیبلز، ٹائی بیم، کراس گرڈ رز اور کمپوزٹ ڈیک پلیک شامل ہیں۔ پل کو زلزلے سے تحفظ، اعلی طاقت اور طویل مدتی استعمال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
بھارت مالا منصوبے کے تحت نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے ذریعہ تیار کیے جانے والے اس منصو بے کی کل لمبائی تقریبا 59,063 کلومیٹر ہے اور اس کی تخمینہ لاگت تقریبا 4,463 کروڑ روپے ہے ۔ یہ چھ لین والی کنٹرولڈ رسائی والی شاہراہ دہلی-ممبئی شاہراہ اور آنے والے نوئیڈا بین الاقوامی ہوا ئی اڈے، جیور کو دہلی، نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد، گروگرام اور سوہنا کو جوڑنے کے لیے ہموار رابطہ فرا ہم کرے گی۔ پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، ٹریفک کا بہا ¶ بہتر ہو گا اور معاشی سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی۔
No Comments: