
دو دن میں میرے پیغام کو 50لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے
ہزاروں طلبہ نے اپنے جذبات اور تجاویز شیئر کیں :کجریوال
نئی دہلی، 19مئی(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال کی جانب سے نیٹ امتحان منسوخ ہونے کے بعد ذہنی دبا ¶ میں مبتلا طلبہ کو حوصلہ دینے کی کوشش کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دو دن قبل اروند کجریوال کی جانب سے کی گئی اپیل کو نہ صرف 50لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا بلکہ ہزاروں طلبہ نے اپنے جذبات اور نیٹ امتحان کو شفاف بنانے کے حوالے سے تجاویز بھی ان کے ساتھ شیئر کیں۔
طلبہ کی جانب سے ملنے والے زبردست ردعمل کو منگل کے روز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اروند کجریوال نے انہیں کامیابی کا منتر دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ تمام طلبہ یہ عزم کریں کہ انہیں ہر حال میں ڈاکٹر بننا ہے۔ اپنے ارادے کو مضبوط رکھیں۔ آپ کا یہی پختہ عزم آپ کے ڈاکٹر بننے کے راستے کو آسان بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 21جون کو دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان میں شامل ہونے والے طلبہ کے لیے پنجاب میں سرکار مفت بس سروس فراہم کرے گی۔
آج ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اروند کجریوال نے نیٹ امتحان دینے والے طلبہ سے کہا کہ آپ نے مجھ پر اتنا بھروسہ کیا، اس کے لیے میں آپ سب کا بے حد شکر گزار ہوں۔ بہت سے لوگوں نے شکریہ ادا کیا ہے۔ سجاتا سوجی کہتی ہیں:تھینک یو سر، آپ ہی واقعی طلبہ کی فکر کرتے ہیں۔ راہل نائک کہتے ہیں:سر، ہمیں واقعی اس وقت اس سپورٹ کی ضرورت تھی۔ تھینک یو کجریوال جی۔
کجریوال نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ شکریہ کس بات کا؟ آپ سب تو میرے بچے ہیں۔ میرے بھی دو بچے ہیں اور دونوں نے آئی آئی ٹی دہلی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ اگر ان کے امتحانات منسوخ ہو جاتے تو میں ان کے لیے بھی یہی کرتا اور ان کے لیے بھی لڑتا۔ آپ سب میرے بچے ہیں، اس لیے میں آپ کے لیے بھی اسی طرح لڑ رہا ہوں جیسے اپنے بچوں کے لیے لڑتا۔
اروند کجریوال نے کہا کہ کچھ بچوں نے اپنے بہت گہرے جذبات شیئر کیے ہیں۔ جیسے ابو بشر لکھتے ہیں: ہیلو سر، یہ میری تیسری کوشش ہے۔ میں نے 2024میں ڈیڑھ لاکھ روپے کوچنگ فیس دے کر امتحان دیا تھا۔ اچھے نمبر آئے، لیکن تب بھی پیپر لیک ہو گیا۔ اس سال صرف سیلف اسٹڈی سے امتحان دیا۔ امتحا ن اچھا گیا اور گھر والوں کے ساتھ جشن بھی منایا، لیکن پیپر منسوخ ہو گیا۔ سچ میں سر، میں بہت ڈپریشن میں ہوں۔
وکاس یادو لکھتے ہیں:یہ میری پانچویں کوشش تھی۔ میں نے اس امتحان کے لیے بہت محنت کی تھی۔ پچھلے دو مہینوں میں کبھی کبھی صرف تین گھنٹے سویا تھا۔ 3مئی کے امتحان کے لیے ہم ذہنی طور پر تیار تھے، اب 21 جون کے لیے حوصلہ کہاں سے لا ¶ں سر؟ ایک طالب علم نے لکھا: اب مجھ میں ہمت نہیں بچی۔ یہ کیا بات ہوئی بچے؟ ہمت نہیں بچی کا کیا مطلب ہے؟
اروند کیجریوال نے طلبہ کو ایک منتر دیتے ہوئے کہا کہ اپنا ارادہ مضبوط کر لو کہ مجھے ڈاکٹر بننا ہی بننا ہے، ہر حال میں بننا ہے۔ چاہے کتنی ہی مشکلات آئیں، چاہے کتنا ہی جدوجہد کرنا پڑے۔ ایک بار جب آپ پختہ ارادہ کر لیتے ہیں تو اس کائنات کی تمام طاقتیں آپ کی مدد کرتی ہیں اور خدا بھی آپ کا ساتھ دیتا ہے۔ آپ سب ڈاکٹر بنو گے۔ کسی بھی حال میں ہمت نہیں ہارنی ہے۔ 21جون کے امتحان کی اچھی تیاری کرو۔
No Comments: