Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ریٹائرڈ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججوں کو تاحیات سکیورٹی کا معاملہ

آل انڈیا بار ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا تفصیلی خط

ریٹائرڈ ضلعی عدلیہ کے افسران کو 10 سال تک سکیورٹی دینے کا مطالبہ

نئی دہلی، 13 مئی (میرا وطن نیوز )
بہت سے ریٹائرڈ جج مسلسل خوف اور ذہنی دباو ¿ کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ متاثرہ فریق یا مقدمہ باز ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔’یہ بات آل انڈیا بار ایسوسی ایشن (AIBA) نے کہی۔ ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو تاحیات سکیور ٹی فراہم کرنے اور ضلعی عدلیہ کے ریٹائرڈ عدالتی افسران کو کم از کم 10 سال تک سکیورٹی دینے کا زوردا ر مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے گئے خط میں اے آئی بی اے کے چیئرمین اور سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر آدیش سی اگروال نے کہا کہ جج حضرات نہایت حساس عدالتی اور آئینی فرائض انجام دیتے ہیں اور اکثر ایسے فیصلے صادر کرتے ہیں جو مقدمہ کے فریقین، مجرمانہ عناصر یا بااثر افراد کو ناگوار گزر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کئی ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دھمکیوں، دشمنی اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر، بار کونسل آف انڈیا کے سابق نائب چیئرمین اور بار کونسل آف دہلی کے سابق نائب چیئرمین ڈاکٹر اگروال نے سرکار سے اپیل کی کہ ججوں کی سروس شرائط اور سکیورٹی سے متعلق قوانین میں ترمیم کرکے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو ادارہ جاتی طور پر تاحیات سکیورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سکیورٹی صرف وقتاً فوقتاً ہونے والے ’سکیورٹی اسیسمنٹ‘ یا ’تھریٹ پرسیپشن‘ رپورٹس پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق عدالتی عہدے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ ججوں کو پوری زندگی خطرات لاحق رہتے ہیں، کیونکہ ان کے فیصلے طاقتور افراد، منظم گروہوں یا ناراض مقدمہ بازوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جو برسوں تک دشمنی رکھ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر اگروال نے کہا کہ کئی ریٹائرڈ جج سرکاریا سکیورٹی ایجنسیوں کو اپنی جان کے خطرات کے بارے میں بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، حالانکہ وہ اندرونی طور پر خوف اور ذہنی دباو ¿ میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے جج قوم کی بے مثال خدمت انجام دینے کے باوجود محدود اور گھٹن بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ضلعی عدلیہ کے ریٹائرڈ عدالتی افسران کو بھی کم از کم 10 سال تک مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے، کیونکہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران حساس فوجداری اور دیوا نی مقدمات کا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔
اس نمائندگی کی ایک نقل چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کو بھی بھیجی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہندوستانی ججوں کو بے خوف، آزاد اور بیرونی دباو ¿ سے آزاد ہو کر کام کرنے کی جو آپ کی سوچ ہے، وہ اسی وقت مو ¿ثر طریقے سے پوری ہو سکتی ہے جب ان تجاویز کو قبول کرکے نافذ کیا جائے۔’
خط میں سرکار کے اس حالیہ فیصلے کی بھی ستائش کی گئی ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کی منظور شدہ تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کر دی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن نے اسے نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے اور زیر التوا مقدمات کم کرنے کی سمت میں ایک ترقی پسند اور دور اندیش قدم قرار دیا۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ ریٹائرڈ ججوں کو ادارہ جاتی سکیورٹی فراہم کرنے سے عدلیہ کی آزادی اور نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا، اور جج ہر سطح پر بے خوف اور آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے سکی۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *