
سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے لگائے سنگین الزام
نئی دہلی ،12مئی (میرا وطن نیوز )
دہلی کے تاریخی اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ کے تعلق سے ایک بار پھر بڑا تنازع سا منے آیا ہے۔ سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے الزام لگایا ہے کہ اسکول کا انتظام چلا نے والی دہلی ایجوکیشن سوسائٹی نے گزشتہ برسوں میں اسکول کیمپس میں تقریباً 35 دن تک کمرشیل فلم شوٹنگ کرائی، جس کے لیے مبینہ طور پر یومیہ تقریباً دو لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ محمد شاہد گنگوہی کے مطابق یہ فلم شوٹنگ دہلی وقف بورڈ اور محکمہ تعلیم کی پیشگی اجازت کے بغیر کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شوٹنگ کے دوران تاریخی ہیریٹیج عمارت کے کئی حصوں کو نقصان بھی پہنچا۔آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی معلومات کے جواب میں اسکول انتظامیہ نے کہا کہ فلم شوٹنگ د ہلی ایجوکیشن سوسائٹی نے کرائی تھی اور اسکول یا ہیڈ آف اسکول کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طر ف دہلی ایجوکیشن سوسائٹی نے خود کو ’پبلک اتھارٹی‘ ماننے سے انکار کرتے ہوئے آر ٹی آئی کا جواب دینے سے بھی انکار کر دیا۔
محمد شاہد گنگوہی کا کہنا ہے کہ جب اسکول کو دہلی حکومت سے تقریباً 95 فیصد گرانٹ ملتی ہے اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی میں دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کے اراکین شامل ہیں، تو پھر جوابدہی سے بچنے کی کوشش کئی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ایک بار پھر اسکول کیمپس میں کمرشیل فلم شوٹنگ کی تیاری کی جا رہی ہے اور حالیہ دنوں میں فلم کمپنیوں کے نمائندے اسکول کا معائنہ بھی کر چکے ہیں۔
محمد شاہدگنگوہی نے محکمہ تعلیم، دہلی وقف بورڈ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ’ اسکول میں ہر قسم کی فلم شو ٹنگ پر فوری روک لگائی جائے،پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے، تاریخی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ معا ملہ صرف ایک اسکول کا نہیں بلکہ ہیریٹیج تحفظ، شفافیت اور طلبہ کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
No Comments: