
جامعہ ملیہ اسلامیہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت، ایک فکری مزاحمت اور ایک اخلاقی ذمہ داری کا نام ہے۔ 1920 میں جب اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں تھا بلکہ ایسے افراد تیار کرنا تھا جو ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ جامعہ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں خاموشی نہیں بلکہ سوال، اطاعت نہیں بلکہ شعور، اور مصلحت نہیں بلکہ حق گوئی کو فروغ دیا گیا۔
گزشتہ دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آر ایس ایس کے 100 سالہ جشن کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازعہ اسی تاریخی روایت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس پروگرام کو نہ صرف جامعہ انتظامیہ کی سرپرستی حاصل رہی بلکہ وائس چانسلر کی موجودگی اور حمایت نے اس معاملے کو مزید تشویش ناک بنا دیا۔ یہ وہی جامعہ ہے جس نے ہمیشہ سیکولر اقدار، کثرتیت اور فکری آزادی کا پرچم بلند رکھا۔ ایسے میں کسی مخصوص نظریاتی تنظیم کے لیے اس طرح کی گنجائش پیدا کرنا جامعہ کی روح سے انحراف کے مترادف ہے۔
یہ لمحہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بھی غور و فکر کا ہے جنہیں آج مختلف اہم عہدوں اور ذمہ داریوں سے نوازا گیا ہے۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عہدے وقتی ہوتے ہیں، مگر ادارے کی روح دائمی ہوتی ہے۔ اگر وہ محض اس لیے خاموش تماشائی بنے رہیں کہ انہیں کوئی منصب دیا گیا ہے تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی کمزوری ہوگی بلکہ جامعہ کے ساتھ ایک اخلاقی بے وفائی بھی ہوگی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ وائس چانسلر آتے جاتے رہتے ہیں، مگر ادارے اپنی تاریخی شناخت کے ساتھ باقی رہیں یہ ہم سب کی اجتماعی ملی ذمہ داری ہے۔ یہ ادارہ قوم و ملت کی امانت ہے، جو برسوں کی قربانیوں، محنت اور خونِ جگر سے تعمیر ہوا ہے۔
جامعہ کے ان سابق طلبہ سے بھی ایک سنجیدہ اپیل ہے جو آج مختلف شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری صرف تقریبات میں شرکت کرنا یا وائس چانسلر کے اعزاز میں دعوتوں کا اہتمام کرنا نہیں ہے۔ جامعہ نے انہیں جو شعور دیا، جو حوصلہ دیا، اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑے ہوں، سوال اٹھائیں اور اگر ادارے کی سمت غلط جا رہی ہو تو آواز بلند کریں۔ محض تعریف و توصیف کرنا جامعہ کی روایت نہیں، بلکہ دلیل کے ساتھ اختلاف اور اصولی موقف اختیار کرنا ہی اس کی اصل پہچان ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ وائس چانسلر کی آمد کے بعد جامعہ کے مختلف پہلوؤں میں ایک خاص نظریاتی اثر واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ کبھی کیمپس میں آر ایس ایس کا مارچ، کبھی طلبہ سیاست میں مخصوص تنظیموں کی مداخلت، اور کبھی “وندے ماترم” جیسے پروگراموں کا انعقاد ، یہ سب ایسے اشارے ہیں جو جامعہ کے روایتی کردار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے انتظامیہ کی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی ہوتی نظر آتی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں شیخ الجامعہ کا رویہ تضادات سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ مختلف مواقع پر قرآن کی آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہیں، حتیٰ کہ غیر متعلقہ مواقع پر بھی مذہبی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دوسری طرف ایسے پروگراموں کی سرپرستی کرتے ہیں جو جامعہ کے سیکولر کردار سے متصادم ہیں۔ حال ہی میں ایک کرکٹ میچ کی تقریب میں ان کا قرآن کی آیت سے آغاز اور حدیث پر اختتام، اور دوسری طرف آر ایس ایس کے پروگرام میں “ہمارے ڈی این اے میں مہادیو ہیں” جیسے بیانات ، یہ سب ایک واضح تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل محض جامعہ برادری کا جذباتی استحصال کرنے کی کوشش محسوس ہوتا ہے، نہ کہ کسی اصولی موقف کا اظہار۔
شیخ الجامعہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک سیکولر ادارہ ہے، جس کی بنیاد اگرچہ مسلمانوں نے رکھی، مگر اس کی روح ہمیشہ تکثیریت ، رواداری اور مشترکہ تہذیب پر قائم رہی ہے۔ یہاں کسی خاص مذہبی یا نظریاتی شناخت کو مسلط کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی گنجائش۔
تاہم اس ساری صورت حال میں جامعہ کے طلبہ تنظیموں کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے جس جراءت، شعور اور استقامت کے ساتھ اس اقدام کی مخالفت کی، وہ دراصل جامعہ کی اصل روایت کا تسلسل ہے۔ یہ مزاحمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جامعہ ابھی بھی زندہ ہے، اس کے طلبہ ابھی بھی سوال کرنا جانتے ہیں، اور وہ کسی بھی ایسے ایجنڈے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو اس کی بنیادی شناخت کو مسخ کرے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جامعہ کے طلبہ، اساتذہ، سابق طلبہ اور ذمہ داران سب مل کر اس ادارے کی اصل روح کو بچانے کے لیے کھڑے ہوں۔ خاموشی اب کوئی آپشن نہیں رہی۔ اگر آج ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا، اگر ہم نے مصلحت کو اصول پر ترجیح دے دی، تو کل یہ ادارہ صرف ایک عمارت بن کر رہ جائے گا، جس میں نہ وہ فکر ہوگی، نہ وہ جراءت، اور نہ وہ روایت جس نے اسے عظیم بنایا تھا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مستقبل اسی بات پر منحصر ہے کہ کیا ہم اس کی امانت کا حق ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ ادارہ ہم سے صرف وفاداری نہیں بلکہ جراءت کا تقاضا کرتا ہے ، وہ جراءت جو سوال اٹھاتی ہے، وہ جراءت جو سچ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، اور وہ جراءت جو تاریخ کے سامنے سرخرو رہتی ہے۔
( مضمون نگار جامعہ طلباء یونین کے سابق نائب صدر اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی بیرون ملک شاخ کے کنوینر ہیں)
No Comments: