Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

شہید آیت اللہ خامنہ ای کے درس اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ

مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے زیراہتمام جلسۂ تعزیت میں قائد مسلمین کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بلافریق مذہب ومسلک جمع ہوئے دانشوران ہند

نئی دہلی،:8 مارچ (میرا وطن نیوز )”آیت اللہ خامنہ ای صرف شیعوں کے یا ایران کے رہنما نہیں تھے بلکہ وہ موجودہ وقت میںعالم اسلام کے قائد کا رول ادا کررہے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک مسلمانوں میں اتحاد اور استقامت کی جدو جہد کرتے رہے، اسی عالم میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔آج ہم اسی قائدمسلمین کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہاںجمع ہوئے ہیں،یہ موقع ہمیںمتحدہوکرظلم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتاہے“۔
اس طرح کے خیالات کا اظہارآج یہاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقد تعزیتی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے مقرریننے کیا۔ اس موقع پرہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹرمحمد علی فتح، سکھ رہنما سرداردیا سنگھ، سابق مرکزی وزراء سلمان خوریشد، منی شنکرایئر، مشہور شاعر ماجد دیوبندی، ڈاکٹر شبستاں غفار، جماعت اسلامی کے سلیم انجینئرسمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
جلسہ تعزیت کوخطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیرمحمدعلی فتح نے انتہائی افسردہ لہجے میں شہیدآیت اللہ خامنہ ای کے حالات زندگی پرروشنی ڈالی اورکہا کہ آج ملت ایران اپنے رہبرکی شہادت پراشکبارہے باوجودظالم کے سامنے جھکنے کوتیارنہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ رہبرمعظم ایران کے ساتھ ساتھ پوری دنیاکے مسلمانوںکے لیے فکرمند رہتے تھے اور جب کہیں انسانیت پر ظلم سنتے تھے، تڑپ اٹھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اس غم میں ہندوستان کی عوام نے جس انداز سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے ہم اس کے مشکور ہیں۔
سابق مرکزی وزیر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے عالم اسلام کو متحد کرنے میں اپنی زندگی قربان کردی، اس لئے اب ہمیں اتحاد کے دامن کو مضبوطی سے تھام کر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج اتنی بڑی شہادت پر مجھے شدید تکلیف ہے،یہاں آپ سے ملاقات ہوئی، شہید کے حوالے سے آپ کے تاثرات اور جذبات کا مشاہدہ کیا تو اندازہ ہوا کہ آپ اور مضبوط ہوگئے ہیں اور مضبوط ہوا ہے آپ کاعہد کہ ظلم کا سامنا کریں گے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ یقیناً آیت اللہ خامنہ ای نے ضعف اور خطرات کے باوجود محفوظ مقام پر یہ کہہ کر منتقل ہونے سے انکار کردیا کہ پہلے ہماری عوام کومحفوظ جگہ پرمنتقل کرو۔
انہوں نے کہا کہ یہ جذبۂ شہادت ہے جس کی وجہ سے انہوں نے زندگی میں جو کہا، وہی کیا اوراسی پرآخر دم تک قائم رہے اور شہید ہوکرہم کو اتحاد کا بہت بڑا پیغام دے گئے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارارشتہ صرف سیاسی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ یہ قدیم تہذیب وثقافت کارشتہ ہے ۔اس لئے ہم اس شہید کو سلام کرتے ہیںجس نے ظلم کے سامنے کبھی سرنہیں جھٹکایا، ہمیشہ اس کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔
ڈاکٹر شبستاں غفار نے کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے ہم لوگوں کو جمع کیا اور ہمت دی کہ ہم امریکہ۔ اسرائیل کے خلاف کھڑے ہوں اور انسانیت پر ہورہے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ کچھ ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شہید ہوتے ہیں، یہ بہت بڑامرتبہ ہے۔ ایسے رہنماؤں کی پیروی کرنا ہم سب کا فریضہ ہے۔ ڈاکٹرشبستاں نے کہا کہ آج ہمیں خوشی ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں لوگ مذہب و مسلک سے اوپر اٹھ کر جمع ہوئے ہیں، یہی شہید آیت اللہ کو سچا خراج عقیدت ہے۔ اس موقع پر مولانا تصدیق حسین رضوی زیدپوری، سردار دیا سنگھ، منی شنکر ایئر ودیگر سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جلسہ تعزیت میں شیعہ، سنی، سکھ، ہندوسمیت مختلف مذاہب کے دانشور اورعوام موجود تھے۔ نظامت کے فرائض تسلیم رحمانی نے انجام دیئے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *