Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی نوالنی کی موت کے لئے پوتن ذمہ دار۔جو بائیڈن

نوالنی کی اہلیہ نے بھی کہا کہ روسی صدر اور ان کے ساتھی اس جرم کے لئے سزا سے نہیں بچیں گے

ماسکو : روس میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ناقد اور اپوزیشن رہنما 47 سالہ الیکسی نوالنی جیل میں ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی نوالنی کی موت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، براہ راست روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر الزام لگایا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک بیان میں، بائیڈن نے پوٹن کے سامنے مسلسل ثابت قدمی سے کھڑے رہنے پر نوالنی کی ہمت اور جرات کی تعریف کی۔ صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ 2020 میں ایک قاتلانہ حملہ کے بعد نوالنی علاج کے لیے بیرون ملک گئے جہاں وہ اپنی جلاوطنی میں محفوظ زندگی گزار سکتے تھے۔لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ روسی واپسی پر انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا یا مار دیا جائے گا، لیکن وہ واپس گئے، کیونکہ وہ اپنے ملک پر بہت بھروسہ تھا۔ بائیڈن نے کہا کہ روسی حکام اپنی کہانی بنائیں گے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ پوٹن نوالنی کی موت کے ذمہ دار ہیں۔
دوسری طرف روس کے اپوزیشن لیڈر الکس نوالنی کی جیل میں موت کے بعد ان کی اہلیہ یولیا نوالنیایا کا بیان سامنے آگیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی اہلیہ نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ان کے ساتھی اس موت کے لیے سزا سے محروم نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ ہمیں موت کی ان خبروں پر یقین کرنا چاہیے کہ نہیں جو کہ ریاست کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں، ہمیں روسی صدر اور ان کی حکومت پر یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر الکس نوالنی کی والدہ نے کہا ہے کہ اسی ہفتہ جب بیٹے سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ صحت مند اور خوش تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں تعزیتی پیغام سننا نہیں چاہتی، 12 فروری کو بیٹے سے ملاقات ہوئی تھی تو اسے صحت مند اور خوش دیکھا تھا۔ علاوہ ازیں روس کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے جمعرات کو عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعہ بات کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی اچانک موت پر تحقیقاتی کمیٹی بنادی گئی ہے۔ واضح رہے کہ روس کے اپوزیشن لیڈر الکس نوالنی جو صدر ولادیمیر پوٹن پر کڑی تنقید کے باعث سزا کاٹ رہے تھے ان کی جیل مں پُراسرار طور پر موت ہوگئی ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *