Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

پیر مریدی پاک رشتہ ہے، ووٹ مانگنے کا رشتہ نہیں ہے:محبوبہ مفتی 

جموں:پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ جنوبی کشمیر کی لوک سبھا سیٹ کے لئے ایک جماعت مذہب کے نام ڈرا دھما کر تو دوسری جماعت بی جے پی کے کندھے پر بندوق چلا کر لوگوں سے ووٹ مانگ رہی ہے۔انہوں نے نام لئے بغیر نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید بنا کر کہا کہ پیر مریدی ایک پاک رشتہ ہے یہ ووٹ مانگنے کا رشتہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نظریاتی بنیادوں پر انڈیا بلاک کا حصہ ہے۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار منگل کو راجوری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘اس علاقے میں ماحول ڈرائونا بنایا گیا ہے فتوے دئے جا رہے ہیں کہ اگر فلاں امید وار کو ووٹ نہیں دیا تو جہنم میں جائوں گے، بیمار ہوجائو گے’۔ان کا کہنا تھا: ‘پیر مریدی ایک پاک رشتہ ہے، یہ ووٹ کا رشتہ نہیں ہے، کسی کو دھمکانا کہ فلاں کو ووٹ ڈالو، فلاں کو مت ڈالو اس سلسلے میں فتوے دینا ٹھیک نہیں ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا: ‘دوسری طرف ایک جماعت بی جے پی کے کندھے پر بندوق چلا رہی ہے اور لوگوں کو دھماکا رہی ہے’۔انہوں نے کہا: ‘اسی کے نتیجے میں ایک کمیونٹی اس لئے کھل کر سامنے نہیں آ رہی ہے کہ ان کے خلاف فتوے لگ جائیں گے تو دوسری کمیونٹی اس لئے سامنے نہیں آ رہی ہے کہ اس کے خلاف سرکار کو استعمال کیا جائے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی یہ بات جانتی ہے کہ جس کے لئے وہ ووٹ مانگ رہے ہیں اس کی کشمیر میں ضمانت ضبط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایک جماعت فتوے کے ذریعے دھمکی دے رہی تو دوسری جماعت سرکار کا استعمال کرکے ڈرا رہی ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ یہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بے روزگاری کی شرح 35 فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد یہاں کوئی بھرتی نہیں ہوئی جو کچھ بھرتی ہوئی اس میں ایک بلیک لسٹڈ ایجنسی کو استعمال کیا گیا’۔انہوں نے کا کہ یہاں کی باجری، ریت کو لوٹا جا رہا ہے اور ٹھیکے بھی باہر کے لوگوں کو دئے جا رہے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہاں یونیورسٹیوں کا حال خراب ہے اور بابا شاہ غلام شاہ یونیورسٹی کا تعلیمی معیار بھی گٹھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ خود زدہ ہیں۔
وزیر داخلہ امیت شاہ کے حالیہ دورہ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘اس دورے کے متعلق بھی خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ کہیں سال 1987 کے انتخابات جیسا ماحول تیار نہ کیا جائے’۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ سری نگر میں جن پولنگ مراکز پر پی ڈی پی کے حق میں زیادہ ووٹنگ ہو رہی تھی وہاں پولنگ عمل کو سست کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پولنگ کے متعلق مجھے یہاں بھی ایسے ہی تحفظات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نظریاتی بنیادوں پر انڈیا بلاک کا ایک حصہ ہے اور اس کے آئین کے تحفظ کی ضرورت کے نظریے کے ساتھ متفق ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *