
نئی دہلی ،9جنوری (میرا وطن )
جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے پروفیسر احتشا م الحق،کارگزار کنٹرولر امتحانات،(سی او ای) اور پروسپیکٹس کمیٹی کے اراکین کی موجودگی میں جامعہ کے اسکولوں میں آئندہ تعلیمی سال 2026-27میں داخلے کا پروسپکیٹس جاری کیا۔
جامعہ اسکول میںنرسری ،پری پیریٹیری ،پہلی ،چھٹی ،نویں اور گیارہویں جماعتوں میں داخلے کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ https://admission.jmi.ac.inپر آن لائن درخواستیں دی جا سکتی ہیں ۔بیرو نی طلبہ اور این آر آئی وارڈ امیدواروں سمیت درخواست دہندگان، درخواست فیس کے سا تھ آن لائن درخوا ست جمع کرسکتے ہیں ۔ جامعہ کے مشیر فاطمہ نرسری اسکول، جامعہ مڈل اسکول، جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول،سید عابد حسین سینیئر سیکنڈری اسکول (سیلف فینانس)اور جامعہ گرلس سینیئر سیکنڈ ری اسکول ( سیلف فینانس) میں داخلے کے لیے ہندوستانی طلبہ کے لیے 500 اور بیرونی طلبہ اور این آر آئی وارڈ کی درخواست فیس1500 ہے۔
ہر اسکول میں داخلے سے متعلق تفصیلی شیڈول میں آن لائن درخواست فارم ، نشستوں کی تعداد، لاٹری اور تحریری امتحانات (جہاں لاگو ہو) کی تاریخیں ، منتخب امیدواروں کی نمائش کی تاریخ،کلاس کے آغاز کی تاریخ جیسی اہم تفصیلات شامل ہیں اور جامعہ ویب سائٹ پر آن لائن دستیاب ہے۔ درخواست دہندگان سے گزارش ہے کہ درخواست دینے سے قبل ساری ہدایات بغور پڑھ لیں۔
تعلیمی سال 2026-27میں اسکول میں داخلہ کی اہم بات ہے کہ کسی بھی کلاس اور کسی بھی اسکول میں ہندوستانی طلبہ کی فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔پروفیسر آصف اس موقع پروائس چانسلر پرو فیسرمظہر آصف کہا کہ ’یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔‘ ہمارے اسکول ہندوستان کے تعلیمی نظام کی بنیاد ہیں۔ اسی لیے ہم نے اس کا خاص خیال رکھاہے کہ جامعہ کے اسکول، سماج کے جملہ طبقات خاص طو رپر لڑکیوں اور خاص ضرورتوں کے حامل بچوں کے لیے شمولیتی اور مساواتی رہیں۔
وائس چانسلر نے کہا کہ اس تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہم اسکول کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کررہے ہیں۔خاص ضرورتوں کے حامل بچوں پر خصوصی زور دیا جارہاہے جن کی شمولیتی آموزش میں معاونت کے لیے ہم خصوصی اساتذہ اور اسپیشل ایجوکیشن کے جے آر ایف کے اسکالرس کو مقرر کررہے ہیں۔‘
پروفیسر آصف نے کہاکہ ’اس کے علاوہ ، اسکول المنائی سے ہم مضبوط تعاون چاہتے ہیں تاکہ معیار تعلیم کو مزید بہتر کیا جاسکے۔ نصاب تعلیم کو عہد جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی )2020 سے مکمل طورپر مطابقت رکھتے ہوئے اس میں اقداری تعلیم اور ہنر اساس تعلیم کوشامل کررہے ہیں۔
پروفیسر رضوی نے پروسپکیٹس کمیٹی کو داخلہ پروسکپیٹس بروقت تیار کرنے پر مبارک دی اور کہا ’جامعہ اسکولوں میں نئے تعلیمی سال 2026-27 میں داخلے کے آغاز کے سلسلے میں بتاتے ہوئے ہمیں مسر ت ہورہی ہے۔جامعہ اسکول محض آموزش کے ادارے نہیں بلکہ وہ ایک سو پانچ سالہ قدیم وراثت اور ثروت مند تاریخ کا مجسم پیکر ہیں۔ محترمہ مشیر فاطمہ اور محترمہ گردا فیلوسبورن جیسی ممتاز شخصیات کی زند گیا ں اور خدمات ہمارے اساتذہ کو تحریک دیتی رہیں گی اور ہماری تعلیمی اخلاقیات کوراستہ دکھاتی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پرنسپل اور اساتذہ اس بات کو یقینی بناتے ہیںکہ جامعہ اسکولوں میں نو خیز ذہن صرف تعلیمی معلومات کی تحصیل نہ کریں بلکہ وہ ہماری ثروت مند تہذیبی و تاریخی وراثت سے بھی روشنا س ہوں۔تعلیمی، نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں اورکھیل کودکے شعبے میں افضلیت کو یقینی بنانے کے لیے ہم لگاتار کوشاں ہیں اور اس ضمن میں طلبہ کی شخصیت کو جامع انداز میں پروان چڑھانے اور مستقبل کے ذمہ دار شہری بنانے کے لیے پرعزم ہیں جو معاشرے اور قوم کی خدمت کا فریضہ انجام دیں گے ۔جامعہ اسکولوں کے لیے جامع او رہمہ جہت فلسفہ بطور مشعل راہ کام کرتاہے۔“
اس مرتبہ داخلہ کی قابل ذکر خصوصیت یہ ہے کہ چھٹی، نویں اور گیارہویں جماعتوں( سائنس، آرٹس، کامرس) کے لیے مختلف شہروں میں انٹرنس ٹسٹ سہولت کا انتظام کیا گیاہے اور دہلی، لکھنو ¿،پٹنہ ، کولکتہ، اور سری نگر جیسے شہروں میں انٹرنس امتحانات منعقد کیے جائیں گے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پروفیسر آصف اور پروفیسر رضوی نے مختلف شہروں میں داخلہ ٹسٹ مراکز کا تصور پیش کیا تھاتاکہ جامعہ میں اپلائی کرنے کے لیے دوردراز علاقوں اور خطوں میں رہنے والے طلبہ کو آسانی ہو اور مقامی تنوع کے ساتھ ساتھ جامعہ اسکولوں کاتکثیری کردار بھی مزید بہتر ہو۔
بالک ماتا سینٹر ز کے لیے آف لائن درخواست فارم 5مارچ 2026سے ملیں گے اور 50روپے کی فیس کے ساتھ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ20 اپریل 2026ہے۔بالک ماتا سینٹر ز میں داخلہ فارم کی درخواست کی ہارڈ کاپیاں مٹیا محل ،قصاب پورہ اور بیری والا باغ سے دستیاب ہیں اور انہیں مر اکز پر درخواست فارم جمع بھی ہوں گے۔
پروفیسر حق نے کہا کہ ’بطور کنٹرولر امتحانات ،داخلہ اور امتحانات کی کاروائیاں شفافیت کے ساتھ برو قت ہوں اسے یقینی بنانے کے لیے پابند عہد ہوں۔داخلے کی جملہ کاروائیاں ایکٹ، ضابطوں ،آرڈ ی نینس ،قواعد اور بورڈ آف مینجمنٹ آف اسکول ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس کے رہنما خطوط کے مطابق سختی سے انجام دی جارہی ہیں اور ایمان داری ،شفافیت اور جواب دہی کے اعلی معیارات کو برقرار رکھا جارہاہے۔
پروفیسر حق نے وائس چانسلر اور رجسٹرار کے متواتر تعاون کی ستائش کی نیز انہوںنے کمیٹی کے اراکین، ڈینز، اسکول پرنسپلز اور ڈپٹی رجسٹرار (اسکول) کا ان کی کوششوںکے لیے شکریہ ادا کیا جس کی وجہ سے پروسپیکٹس کو بروقت جاری کرنا ممکن ہوسکا
No Comments: