Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اب 112 دہلی میں واحد ایمرجنسی نمبر بن جائے گا: وزیر اعلیٰ

شہریوں کو ہنگامی حالات کی پریشانی سے ملے گی اب نجات

ایک ہی نمبر ہر آفت میں فوری مدد فراہم کرے گا: ریکھا گپتا

نئی دہلی، 19 جنوری(میرا وطن )
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں راجدھانی میں ہنگامی خدمات کو زیادہ موثر، تیز اور تکنیکی طور پر جدید بنا نے کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں۔ اب دہلی میں کسی بھی آفت یا ایمرجنسی کے لیے ایک سے ز یادہ ہیلپ لائن نمبر ڈائل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بس 112 ڈائل کرنے سے فوری مدد ملے گی۔ یہ اقدام ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس ) 2.0 کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لوگوں کو بحران کے وقت ایک سے زیادہ نمبر یاد رکھنے کی پریشانی سے آزاد کرنا اور انہیں تیز تر امداد فراہم کرنا ہے۔
اس تعلق سے ریکھا گپتا نے بتایا کہ فی الحال، مختلف ہنگامی خدمات کے لیے مختلف ہیلپ لائن نمبر استعما ل کیے جاتے ہیں، جن میں پولیس (100)، فائر سروسز (101)، ایمبولینس/صحت کی خدمات (108)، خواتین کی ہیلپ لائن (181)، چائلڈ ہیلپ لائن (1098)، گیس لیکس (1906)، بجلی کی فراہمی (19123)، پانی کی فراہمی (197516)، دہلی میٹرو (197516) انتظام /ریلیف سروسز (1077)۔ یہ بحران کے وقت عام شہریوں کے لیے الجھن اور تاخیر کا سبب بنتا ہے۔ ای آر ایس ایس2.0 کے تحت، ہر قسم کی ہنگامی صورتحال کے لیے متعدد نمبروں پر کال کرنے کی ضرو رت نہیں ہوگی۔ ہر قسم کی مدد صرف 112 پر کال کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ نے 112 کو قومی ایمرجنسی نمبر قرار دیا ہے۔ اس کی روشنی میں دہلی بھی اسے نافذ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ای آر ایس ایس 2.0 ایک جدید یونیفائیڈ سگنل ہینڈلنگ سسٹم ہے، جس میں تمام ایمرجنسی کالز، موبائل ایپ ایمرجنسی، پینک بٹن، ایس ایم ایس، اور ویب الرٹس ایک ہی پبلک سیفٹی آنسرنگ پوائنٹ (پی ایس اے پی ) پر موصول ہوں گے۔ یہاں سے، ایمرجنسی کی قسم کے لحاظ سے، پولیس، فائر، ایمبولینس، اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سروسز کو بیک وقت الرٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سسٹم نہ صرف 112 پر کال کے ذریعے بلکہ موبائل ایپس، ایمرجنسی بٹن، ایس ایم ایس اور آن لائن خدمات کے ذریعے بھی مدد کی اجازت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شہری ہنگامی حالت میں بولنے سے بھی قاصر ہو تو وہ آسانی سے مدد کے لیے سگنل بھیج سکتا ہے۔ وقت بچ جائے گا، مدد جلدی پہنچ جائے گی

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *