
شہر کی ملی ،سماجی اور سیاسی شخصیات نے ملک کی دیگر تنظیموں سے آگے آنے کی اپیل کی
آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈووال کے سامنے رکھی تھی تجویز
مذہبی مقامات پر کارروائی کرنے سے قبل فریقین سے بات چیت ہوئی چاہئے
نئی دہلی، 17 جنوری(میرا وطن)
حالیہ میں آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے ایک وفد نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے سا منے قومی راجدھانی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع تاریخی مسجد درگاہ سید فیض الہٰی کے احاطے میں کی گئی انہدامی کارروائی کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے تجویز رکھی تھی کہ مساجد ،درگاہوں اور قبرستانوں سے متعلق کسی بھی تنازع میں بلڈوزر کارروائی سے قبل دونوں فریقین کو اعتماد میں لے کر بات چیت اور مصالحت کا راستہ اختیار کیا جاسکے ۔قومی سلامتی کے مشیر سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ سرکار کے سا منے کونسل کی تجویز کو رکھیں تاکہ سرکار کوئی ایسا مکینزم تیار کرے ،جس سے باہمی رضا مندی سے اس طر ح کے حساس مسئلے حل ہوسکیں ۔آئی آئی ایس ایس سی کے ذریعہ قومی سلامتی کے مشیر کے سامنے رکھی گئی اس تجو یزکو شہر کے سماجی ،سیاسی اور ملی رہنماﺅں نے خوش آئند بتاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ کونسل کی دیے گئے مشوروں پر فوری کوئی لائحہ عمل تیار کر گائڈ لائنس جاری کرے تاکہ معاشرے میں بھی بہتر پیغام جاسکے۔
اس سلسلے میں مذہبی رہنما مولانا مفتی محسن کریم نے کہا کہ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کی مساجد ،قبر ستان اور در گا ہوں پر اٹھ رہے قابل اعتراض سوالات اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ آپسی بھا ئی چارے کو فروغ دینے کے ساتھ پر امن حل کے مقصد سے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے سا منے رکھی گئی تجویز خوش آئند ہے ۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر سرکار کے سامنے کونسل کی تجویز کو موئثر ڈھنگ سے رکھ سکتے ہیں اور حکومت ان کے مشورے کو سنجیدگی سے بھی لے گی ۔مولانا محسن کر یم نے کہا کہ اگر سرکار مذہبی مقامات کے متعلق کوئی ٹھوس گائڈ لائن جاری کرتی ہے تب اس کے دو رس نتیجے بر آمد ہوسکتے ہیں ۔
سوشل ورکر اور آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ مسجد درگاہ فیض الہٰی کا معاملہ ایک متنازع تنظیم کے کارکن نے نا مکمل شواہد کے ساتھ عدالت میں پہنچایا اور عدالت نے متعلقہ اداروں یعنی ایم سی ڈی کو تمام فریقین سے بات چیت کر کسی نتیجے پر پہنچنے کی ہدایت دی ۔انہوں نے کہا کہ ایم سی ڈی کے سینئر افسروں نے اس معاملے میں جلد بازی کی اور منیجنگ کمیٹی وغیرہ کو عدالت میں جانے تک کا مو قع نہیں دیا جس سے ان کی نیت پر سوال بھی اٹھے۔محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ اگر حکومت آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کی تجویز پر کوئی مکینزم تیار کر گائڈ لائن جاری کرتی ہے ،تب ایسے حساس معاملوں میں سرکاری ادارے کارروائی نہیں کرسکیں گے ۔انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے سامنے کونسل کی تشویش اور تجویز کو خوش آئندہ بتاتے ہوئے دیگر ملی تنظیموں کو بھی اسی طرح آگے آکر پہل کی کرنے کی اپیل کی ۔
نوجوان سماجی کارکن وارث پردھان نے کہا کہ مساجد ،درگاہوں ،قبرستانوں کے ساتھ مندروں ، گرو دواروں، چرچ اور شمشان گھاٹوں کے مسئلے حساس ہوتے ہیں ،ایسے دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنے ذاتی ایشوز یا سیاسی مفادیا پھر نام کمانے کی خواہش میں اعتراض کرتے ہیں یا سیاسی بیان بازی کی جاتی ہے جو کسی بھی زاویے سے درست نہیں ٹھہرائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی درسگاہوں سے لوگوں کے جذبات جڑے ہوتے ہیں اور مفاد پرست لوگ اسی کا فائدہ اٹھانے کی فراق میں رہتے ہیں ،اگر حکو مت آئی آئی ایس ایس سی کی تجویز پر کوئی لائحہ عمل تیار کرتی ہے تب بہت سے معاملات کو باہمی رضا مندی سے حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سماجی کارکن منظور ملک نے کہا کہ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے ذریعہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے سامنے رکھی گئی تجویز موجودہ حالات کے تناظر میں بہت زیادہ معنی رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر کونسل کی تشویش اور تجویز کو سرکار کے سامنے موئثر ڈھنگ سے رکھ سکتے ہیں ا و ر سرکار کوئی مذہبی مقامات کے متعلق کوئی ٹھوس مکینزم بناتی ہے تب ایسے معاملوں کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک دنیا میں گنگا جمنی تہذیب کے ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے او ر ہمارا جمہوری ملک ہے،یہاں سبھی لوگوں کو اپنے مذاہب کے اعتبار سے حقوق بھی آئین کے تحت ملے ہوئے ہیں ۔منظور ملک نے کہا کہ اگر متعلقہ تمام مذاہب کی تنظیمیں بھی کونسل کی طرز پر تجویز سرکاروں کے سامنے رکھیں تب ایک اچھا پیغام جائے گا کیونکہ ہر مذہب میں آپسی بھائے چارے کو فروغ دینے کی بات کہی گئی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ میں آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے ایک وفد نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے سامنے قومی راجدھانی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع تاریخی مسجد درگاہ سید فیض الہٰی کے احاطے میں کی گئی انہدامی کارروائی کے معاملے کو اٹھایا تھا ۔آئی آئی ایس ایس سی کے صدراوردرگاہ اجمیر کلے سجادہ نشین حضرت سید نصیر چشتی ، آئی آئی ایس ایس سی کے نائب صدراور درگاہ حضرت سلیم چشتی کے سجادہ نشین ارشد فریدی نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے سامنے اس بات پر تشویش ظاہر کی تھی کہ ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی مقامات سے متعلق انہدامی کارروائیوں کی خبری گردش کرہی ہیں جس سے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور بین الاقوامی شبیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔لیکن اگر حکومت ایک واضح مکینزز تیار کرے اور متعلقہ فریقین کو ایک میز پر بٹھائے تو کئی تنازعات باہمی رضا مندی سے حل ہوسکتے ہیں ۔ساتھ تجویز پیش کی تھی کہ کونسل ایسے معاملات میں حکومت اور عوام کے در میا ن پل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، تاکہ امن و امان اور بھائی چارے کا پیغام دیا جاسکے ۔
No Comments: