Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اوکھلا کے بعد براڑی اسمبلی حلقہ کا راشن دفتر بھی 11کلو میٹر دور منتقل

ایم ایل اے سنجیو جھا نے وزیر خوراک و رسد کو خط لکھ کر جتایا اعتراض

اوکھلا کا نئی بستی واقع راشن دفتر تقریباً 7-8کلو میٹر دو ر تغلقہ آباد منتقل
اوکھلا اور براڑی سرکل 2-کے راشن دفتر کی منتقلی غریب مخالف ہے
راشن دفتر کو 11کلو میٹر دور گلابی باغ منتقل کیا گیاہے :سنجیو جھا
راشن دفتر نئی بستی میں واپس منتقل کیا جائے ،اوکھلا کے عوام کاوزیر سے مطالبہ

نئی دہلی، 19جنوری(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ بی جے پی سرکار جہاں ان کی سرکار کی اسکیموں کو پلیتا لگا رہی ہے اور اپنے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کر رہی ہے ۔وہیں اب علاقائی عوام سے جڑے سرکاری محکموں کے دفاتر کو ایک اسمبلی سے دوسری اسمبلی میں منتقل کرنے کی روایت شروع ہوگئی ہے ۔ابھی تک مرکزی سرکار ،ریا ستی سرکاریں اور میونسپل اکائیاں لوگوں کو ان کے گھر کے نزدیک ووٹر شناختی کارڈ ،راشن کارڈ ،آدھار کارڈ ،برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ سمیت بجلی اور پانی دفتروغیرہ کی سہولیات مہیا کرانے کا دعویٰ کرتی رہیں لیکن دبی جے پی کی دہلی کی ریکھا گپتا سرکارنے پہلے سے قائم ان عوامی سرکاری دفاتر کو کئی کئی کلو میٹر دور منتقل کرنے کی روایت شروع کردی ہے۔
پچھلے دنوں میں اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تحت نئی بستی واقع د ہلی سرکار کے فشری ڈیپارٹمنٹ کی عمارت میں قائم دفتر کو تغلقہ آباد علاقے میں بترا اسپتال کے عقب میں واقع ایس ڈی ایم دفتر میں منتقل کردیا گیا تھا ۔حالیہ میں براڑی اسمبلی حلقہ کے تحت براڑی سرکل 2-دفتر کو گلابی باغ منتقل کردیا گیا ہے ۔بتایا جا تا ہے کہ دونوں اسمبلی حلقوں کے ایم ایل ایزبا الترتیب امانت اللہ خان اور سنجیو جھا عام آدمی پارٹی کے ہیں ۔عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی نے اپنے اپنے حلقوں سے راشن دفاتر منتقل کرنے کو عوام مخالف بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی سرکا رنہیں چاہتی کہ لوگوں کے کام آسانی سے ہوسکیں ۔ریکھا گپتا سر کا ر کے اس قدم سے غریب لوگوں کی جیب ڈھیلی کی جائے گی جو پہلے سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں ،ساتھ ہی ان کے وقت کی بھی بر با دی ہوگی ۔
عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور براڑی سے ایم ایل اے سنجیو جھا نے بی جے پی سرکار کی جانب سے براڑی سرکل-2 کے راشن دفتر کو منتقل کرنے کے فیصلے کو غریب مخالف قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلا ف انہوں نے وزیر خوراک و رسد منجندر سنگھ سرسا کو خط لکھا ہے۔اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہتے آئے ہیں اور آج پھر یہ حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ بی جے پی کی پالیسیاں غریب مخالف ہیں ۔ غر یبوں کے حق کی ہر اسکیم بی جے پی کو ناگوار گزرتی ہے۔ براڑی سرکل 2-کا راشن دفتر، جو برسوں سے براڑی میں ہی غریبوں کو سہولتیں فراہم کر رہا تھا، اسے 11کلومیٹر دور گلابی باغ منتقل کر دیا گیا ہے۔
اپنے خط میں ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ یہ غور و فکر کا موضوع ہے کہ اب ایک غریب مزدور، بزرگ یا خاتون را شن کارڈ سے متعلق چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے اتنی دور کیسے جائے گی؟ یہ مسئلہ کسی ا یک علاقے تک محدود نہیں ہے۔ تقریباً ہر اسمبلی حلقے کے راشن دفاتر بند کر کے انہیں زون کی ایک ہی عمارت میں ا سی طرح منتقل کیا جا رہا ہے، تاکہ غریب تھک ہار کر پریشان ہو جائے اور اپنے حق سے دور ہو جائے۔
پیر کو دہلی کے وزیرِ خوراک و رسد منجندر سنگھ سرسا کو لکھے گئے خط میں سنجیو جھا نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ براڑی سرکل2-کے تحت کام کرنے والے فوڈ سپلائی آفیسر (ایف ایس او)کے دفتر کو براڑی سے تقریباً 11 کلومیٹر دور گلابی باغ منتقل کرنے کی تجویز ہے۔سنجیو جھا نے وزیر کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ براڑی ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے، جہاں سے بڑی تعداد میں عام شہری روزانہ راشن کارڈ بنوانے، نام جوڑنے یا ہٹانے، تصحیح اور دیگر چھوٹے موٹے کاموں کے لیے ایف ایس او دفتر آتے ہیں ۔ دفتر کی اتنی دور منتقلی سے خاص طور پر بزرگوں، خواتین اور معاشی طور پر کمزور طبقے کے افراد کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سنجیو جھا نے کہا کہ راشن سے متعلق زیادہ تر کام معمولی اور فوری نوعیت کے ہوتے ہیں، جن کے لیے 11کلومیٹر دور سفر کرنا عام لوگوں کے لیے وقت، پیسے اور محنت کے لحاظ سے نہایت تکلیف دہ ہوگا۔ یہ قدم عوامی مفاد کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔ سنجیو جھا نے وزیر سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہو ئے براڑی سرکل-02 کے ایف ایس او دفتر کو اپنی موجودہ جگہ پر برقرار رکھا جائے یا براڑی علاقے کے قریب ہی کسی مناسب مقام پر چلانے پر دوبارہ غور کیا جائے، تاکہ عام شہریوں کو غیر ضروری پر یشا نی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اس معاملے پر ہمدردانہ غور کر کے مناسب فیصلہ کر یں گے۔ادھر اوکھلا کے عوام نے بھی ایل جی وی کے سکسینہ ،وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر خوراک و رسد منجندر سنگھ سرسا سے راشن دفتر کو نئی بستی میں ہی واپس منتقل کرنے کی اپیل کی ہے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *