Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی وقف بورڈ کی تشکیل کےلئے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کو خط لکھ کر کیا گیا ہے مطالبہ

اندرون ایک ماہ بورڈ کے تشکیل نہ دیے جانے پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا: شاہد گنگوہی

نئی دہلی ،19جنوری (میرا وطن)
سوشل اینڈ آرٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے ایک عرضداشت کے ذریعہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے دہلی وقف بورڈ کی تشکیل نو کا مطالبہ کیاہے ،جس کی نقول دہلی کی وزیر اعلی ، ڈویڑنل کمشنر نیز وقف بور ڈ کو بھی ارسال کی گئی ہیں ۔انہوںنے خط میں بتایا کہ اگست 2023 سے وقف بورڈ اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کر چکا ہے اور اس کے بعد سے بورڈ کو سرکار ایک ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ چلا رہی ہے جبکہ ضا بطہ کے مطابق بورڈ تحلیل کئے جانے کی صورت میں ہی ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔اور اسکو بھی اندرون ایک سال تشکیل کیا جانا لازمی ہے۔
واضح ہو کہ آدمی پارٹی کی سابقہ سرکار پر الزام لگتے رہے کہ وہ اقلیتوں خاص طور پر مسلمانو ں سے منسلک اداروں کی تشکیل نو میں سرد مہری اختیار کر رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو سرکاری منصو بو ں اور اسکیمو ں کا فائدہ نہیں مل پارہا ہے،لیکن ریکھا گپتا کی بی جے پی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی مسلم ادا ر وں کی حالت جس کی تس بنی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگست 2023سے دہلی وقف بورڈ تحلیل پڑ ا ہے۔اسی طرح دہلی اقلیتی کمیشن اوردہلی اردو اکادمی کی بھی نئی باڈی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی مدت بھی 5جنوری 2026کو ختم ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ نئے وقف ایکٹ کے مطابق دہلی وقف بورڈ کی تشکیل کے دوران تمام ممبران کی تقر ری اب دہلی سرکار ہی کرے گی۔ جبکہ اس سے قبل بورڈ کی تشکیل میں کچھ ممبران کے لئے الیکشن ہوتا تھا او ر کچھ کو سرکار نامزد کرتی رہی تھی۔قابل ذکر ہے کہ دہلی سرکار کو تمام ممبران کی نامزدگی کا اختیار ہے۔آیا بتا دیں کہ دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین رہے سراج پراچہ کے بعد چیئر مین ہارون یوسف ،چودھری متین ا حمد ،امانت اللہ خان اور محترمہ رانا پروین صدیق وغیرہ رہے ہیں۔جبکہ سراج پراچہ سے پہلے امتیا ز خا ن ،سید احمد ہاشمی ،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی،مرزا اقبال شاہ ،ذاکر حسین ،نواب لیاقت علی خان اور دیگر چیئر مین رہے ہیں۔
نئے وقف بورڈ تشکیل دینے میں اب صوبائی سرکار ہی ممبران کو نامزد کرے گی۔ان میں دو غیر مسلم ممبر ان کے ساتھ کل11 ممبر ہوںگے جن میں دو خواتین،ایک ایک ممبر شیعہ، سنی اور پسماندہ زمرہ سے لا زمی ہے۔ان میں ایک ممبر پارلیمنٹ ،ایک ایم ایل اے ،ایک عالم ،ایک کونسلر ،ایک متولی،ایک وکیل ،ایک سرکاری افسر،ایک سماجی کارکن اور ایک سی ای او ایکس-اوفیشیو شامل ہیں۔
ایل جی کو عرضی گزار شاہد گنگوہی کا کہنا ہے کہ اگر سرکار دہلی وقف بورڈ اور دیگر اقلیتوں سے وابستہ ادارو ں جن میں دہلی اسٹیٹ مائنورٹی کمیشن، دہلی حج کمیٹی،دہلی عرص کمیٹی ، دہلی اردو اکیڈمی کی تشکیل اندرو ن ایک ماہ نہیں کرتی ہے تو وہ انکی تشکیل کی بابت دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *