Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مسجد درگاہ فیض الہٰی معاملہ: مسجد منیجنگ کمیٹی کے عہدیداران ، منتخب نمائندوں اور ملی رہنماﺅں پر بھی اٹھ رہے ہیں سوال

مقامی کونسلروں نے ایم سی ڈی کی میٹنگوں اور اعلیٰ حکام اور افسروں کے سامنے نہیں رکھا موقف

مقامی سمیت چاروں مسلم ایم ایل ایز بھی اسمبلی اجلاس میں وقت رہتے اپنا موقف نہیں رکھ سکے
اس معاملے میںملک کی قیادت کر رہی مسلم تنظیموں اورمسلم رہنماﺅں بھی خاموسی اختیار کر لی تھی
مسجد احاطے میں کمر شیل مقامات پر انہدامی کارروائی کے بعدسے ہی آنے لگے سبھی کے مذمتی بیان

نئی دہلی ،3جنوری (میرا وطن)
مسجد درگاہ فیض الہٰی کے معاملے میں مسجد منیجنگ کمیٹی کے عہدیداران ، منتخب نمائندوں اور ملی رہنماﺅں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں ۔ایم سی ڈی کے ذریعہ رات کی تاریکی میںمسجد سے متصل احا طے میں چل ر ہی کمر شیل سرگرمیوں کاحوالہ دے کر کی گئی کارروائی کو جلد بازی میں اٹھایا گیا قدم بتایاجا رہا ہے ۔وہیں مسجد کے تعلق سے پیدا ہوئے حالیہ بحران پر گہری نظر رکھ رہے دانشور حضرات کے ذریعہ ملی رہنماﺅں کے ساتھ مقامی منتخب نمائندو ں کی جانب سے اس معاملے میں برتی گئی غفلت کو بھی ذمے دار ٹھہرایا جا ر ہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے معاملے کو ایم سی ڈی کی میٹنگوں اور دہلی اسمبلی اجلاس میں ٹھو س شواہد کے ساتھ وقت رہتے رکھا جاتا ہے تب سرکاری ادارے اتنی جلد بازی میں یہ انتہائی قدم نہیں اٹھاپاتے کیو نکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر غور تھا ۔
قابل ذکر ہے کہ مسجد درگاہ فیض الہٰی کا معاملہ کافی وقت سے سرخیوں میں رہا مگر اس معاملے میں عام آ پ ، کانگریس ،آل انڈیا فارورڈ بلاک ،اے آئی ایم آئی ایم اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا وغیرہ خاموش رہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ مسجد فیض الہٰی احاطے میں کمر شیل استعمال کے مقامات پر انہدام سے قبل پارٹی سطح پر خصوصی طو ر پر کوئی بیان جاری نہیںکیا گیا ۔ملک کی ملی تنظیموں جمعیت علماءہند (مولانا ارشد مدنی ) ،جمعیت علماءہند ( مو لانامحمود اسعد مدنی )، جما عت اسلامی ہند ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ،آل انڈیا اہل حدیث ،آل انڈیا ملی کونسل ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ وغیرہ نے بھی خصوصی طور کوئی بیان جاری نہیں کیا ۔ مقامی منتخب نمائندوں میںمقامی ایم ایل اے آل محمد اقبال ،چاندنی محل کے کونسلر محمد عمرا ن،بازٓر سیتا رام کی کونسلر رافعہ عامر ،جامع مسجد کی کونسلر سلطان آباد کے علاوہ بلیماران کے ایم اے عمرا ن حسین اور کونسلر محمد صادق وغیرہ نے بھی خاص سرگرمی نہیں دکھائی ۔اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان اور سیلم کے ایم ایل اے چودھری زبیر احمد بھی خاموش نظر آئے ۔
اس تعلق سیاسی لیڈروں کا دلچسپ پہلو یہ رہا ہے کہ جیسے ہی6 اور 7جنوری کی درمیانی رات میں ایم سی ڈی نے بھاری پولیس فورس کی موجودگی میںمسجد احاطے میں کمر شیل سرگرمیوں کے مقامات کو زمین بو س کردیا گیا ،دن کا اجالہ ہوتے ہی ان منتخب نمائندوں کے بیان آنے شروع ہوگئے ۔اس دوران مقا می ایم ایل اے آل محمد اقبال ،بازار سیتا رام کی کونسلر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن رافعہ ماہر ،ایم ایل اے عمران حسین ،ایم ایل اے امانت اللہ خان اور ایم ایل اے چودھری زبیر احمد نے ایم سی ڈی کی اس کارروائی کو لے کر مذمتی بیان دینا شروع کردیے ۔ اس معاملے میں قومی لیڈروں میں ممبر پارلیمنٹ اسعد الدین اویسی وغیرہ لیڈروں کے بھی بیان آنا شروع ہوگئے ہیں ۔
اس معاملے پر باریکی سے نظر رکھ رہے افراد کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ کونسلروں نے ایم سی ڈی کی میٹنگوں
میں اعلیٰ عہدوں پر فائض لیڈروں اور افسروں کے سامنے مسجد فیض الہٰی کے معاملے کو رکھا ہوتا تب اتنی
جلد بازی میں کارروائی ممکن نہیں تھی ۔اسی طرح چاروں مسلم ممبران نے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں آواز اٹھائی ہوتی یا پھر وزیر اعلیٰ ور وزیر داخلہ کے سامنے ٹھوس دلائی کے ساتھ مسجد معاملے کی بات رکھی ہوتی تب بھی ایم سی ڈی اتنی جلدی کارروائی کی پہل نہیں کرتی ۔اسی طرح ملی رہنماﺅں اور مسلم ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے مسجد معاملے میں اعلیٰ حکام کے سامنے وقت رہتے عدالت میں زیر غور معاملے کے ہونے کے ساتھ رکھا ہوتا تب بھی اتنی جلد بازی میں کارروائی ممکن نہیں تھی ۔
بہر حال ایم سی ڈی کے ذریعہ کارروائی کردیے جانے اور کارروائی کے دوران پیدا صورتحال کو لے کر بر سر اقتدار بی جے پی اور اپوزیشن عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کے بیان آنا شروع ہوگئے ہیں ۔امید کی جا رہی ہے کہ آئند ہ میں ملی تنظیموں اور ان کے رہنماﺅں سمیت دیگر سیاسی پارٹی اور ان کے لیڈرو ں کے بیان بھی آنا شروع ہوجائیں گے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *