
آلودگی کی وجہ سے ان کی صحت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے
نئی دہلی، 19 جنوری(میرا وطن)
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ راجدھانی میں آلودگی سال بھر ایک پیچیدہ مسئلہ بن گئی ہے ، اور بی جے پی کی ریکھا گپتا سرکارکے پاس اس پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ اور حل نہیں ہے ۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’جب آلودگی بڑھتی ہے تو سرکار سب سے پہلے اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیتی ہے لیکن طلباءکی صحت کے حوالے سے حساس ہونے کے باعث آلودگی پر قابو پا نے کے لیے مستقل اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ سردی، دھند اور سموگ نے دہلی کو گیس چیمبر میں تبدیل کر دیا ہے، اور ایک بار پھر، جب اے کیو آئی 400 سے اوپر پہنچ گیا ہے، تو اسکولو ں کو بند کرنے کے لیے گریپ-4 کے احکامات نافذ کیے گئے ہیں۔
ریاستی صدر نے بتایا کہ تقریباً 18لاکھ طلباءدہلی کے سرکاری اسکولوں میں اور 8لاکھ دہلی میونسپل کارپور یشن کے پرائمری اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ اگر ہم دہلی کے تمام اسکولوں کے طلبہ کی آبادی پر غور کریں تو یہ تعداد تقریباً 45 لاکھ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 0-10 سال کی عمر کے بچے آلودگی سے 43 فیصد متاثر ہوتے ہیں جو کہ عام آبادی کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہے۔ شدید آلودگی میں پی ایم 10 اور پی ایم 2.5 ذرات کا ارتکاز ہر عمر کے لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے، بشمول طلباء، اور اسپتال میں داخل ہو نے والے 8 فیصد لوگ آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔
دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی سرکار کو فوری طور پر سرکاری اور میونسپل اسکولوں میں پڑھنے والے طلباءکے لیے باقاعدہ صحت کی جانچ کے لیے ایک منصوبہ نافذ کرنا چاہیے۔ اس سے ان بیماریوں کی نشاندہی کر نے میں مدد ملے گی جن میں طالب علم شدید آلودگی میں اسکول جاتے ہوئے مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اگر صحت کی سنگین حالت ہو تو سرکاری اسپتالوں میں علاج مفت کیا جائے۔
No Comments: