
نئی دہلی، 19 جنوری(میرا وطن)
قومی یکجہتی اور نوجوانوں کی شرکت کے جذبے کو تقویت دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے اننت ناگ، کپو اڑہ، بارہمولہ، بڈگام، سری نگر اور پلوامہ اضلاع کے 170 نوجوانوں کے ایک وفد نے پیر کودہلی اسمبلی کا دورہ کیا۔ اس دورے کا اہتمام کشمیری یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت کیا گیا تھا، جو کہ وزارت برائے امور نوجوانان اور کھیل، حکومت ہند کے میرا یووا بھارت اقدام کا حصہ ہے، اور یہ وزارت داخلہ کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔
اس دورے کے دوران دہلی اسمبلی سیکریٹریٹ کے افسروںنے وفد کو بتایا کہ اسپیکر وجیندر گپتا کی قیاد ت میں، دہلی اسمبلی ہندوستان کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والی قانون ساز اسمبلی بن گئی ہے ۔ مزید برآں، ایوان کی کارروائی قومی ای ودھان ایپلیکیشن (نیوا) کے ساتھ مربوط مکمل ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ نوجوانوں کو دہلی قانون ساز اسمبلی کو قومی اہمیت کے ثقافتی اور ورثے کے مقام کے طور پر ترقی دینے کے اسپیکر کے وزن سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وفد کے بہت سے اراکین کے لیے، یہ دہلی کا ان کا پہلا دورہ تھا، جس نے اس تجربے کو انتہائی بامعنی اور یادگار بنا دیا۔
دورے کے دوران، نوجوانوں کو ایوان کی کارروائی سے متعارف کرایا گیا، جس میں قانون سازی کے مبا حث، سوالات کا وقت، اور جمہوری طرز حکمرانی میں منتخب نمائندوں کے کردار شامل ہیں۔ انہیں اسمبلی کی عمارت کی تاریخی اور تعمیراتی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس عمارت میں کبھی برطانوی ہندو ستان کی مرکزی قانون ساز کونسل رہتی تھی، جو بعد میں ہندوستان کی پارلیمنٹ بن گئی، اور دسمبر 1911 میں دارالحکومت کولکتہ سے دہلی منتقل ہونے کے بعد عارضی مرکزی سکریٹریٹ کے طور پر بھی کام کرتی تھی۔
نوجوانوں نے قانون ساز اسمبلی سکریٹریٹ کے افسروں کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کی اور قانو ن سازی کے کام کاج، عوامی انتظامیہ اور جمہوری عمل سے متعلق سوالات پوچھے۔ یہ دورہ نوجوانوں کے لیے ہندوستان کی آئینی وراثت، جمہوری اداروں اور حکمرانی کے نظام کو سمجھنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوا۔
No Comments: