Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مکالمہ، غورو فکراورغیرجانبداری سے ہی جمہوریت مستحکم ہوگی: اوم برلا

لکھنؤ 19جنوری: اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں منعقدہ 86 ویں آل انڈیا پریذائیڈنگ آفیسرز کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے جمہوریت، مقننہ اور پریذائیڈنگ افسران کے کردار پر تفصیلی خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اتر پردیش تحریک آزادی سے لے کر ملک کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی شعور کی سرزمین رہا ہے اور اس ریاست نے قوم کی تعمیر میں تاریخی تعاون دیا ہے۔ لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ مقننہ عوام کے مسائل کے حل اور ان کی خواہشات کی تکمیل کے لیے سب سے زیادہ طاقتور اور موثر پلیٹ فارم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقننہ کے ذریعے ہی عوام کی آواز حکومت تک پہنچتی ہے اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات پر بامعنی حل نکلتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ ایوان میں رکھیں۔

مسٹر اوم برلا نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور مکالمے و غور و فکر کی روایت کے ذریعے ملک نے ثابت کر دیا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت، جمہوریت کا بہترین نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند بحث، تبادلہ خیال اور اتفاق و اختلاف رائے سے ہی جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ، ریاستی اسمبلیوں اور تمام جمہوری اداروں کا مضبوط، فعال اور ذمہ دارانہ کردار ناگزیر ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ قومی مفاد کے امور پر پارلیمنٹ اور ریاستوں کی مقننہ ایک جیسی نظر اور جذبے کے ساتھ کام کریں، تب ہی ہمہ گیر ترقی ممکن ہے۔ لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ اتفاق اور اختلاف جمہوریت کی اصل طاقت ہیں۔ مختلف آراء اور خیالات کو جگہ دے کر ہی جمہوری اقدار کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اختلاف رائے کو تصادم نہیں بلکہ مکالمے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

انہوں نے پارلیمانی طریقہ کار پر اہم تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلیوں کی کارروائی کے لیے ایک مقررہ اور کافی وقت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ایوان جتنا زیادہ چلے گا، اتنی ہی زیادہ بامعنی، سنجیدہ اور نتیجہ خیز بحث ممکن ہوگی، جس سے عوام سے جڑے مسائل کا بہتر حل نکلے گا۔

پریذائیڈنگ افسران کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے برلا نے کہا کہ ایوان کا اسپیکر چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے منتخب ہو کر آئے، لیکن پریذائیڈنگ افسر کے طور پر اس کا طرز عمل مکمل طور پر منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور باوقار ہونا چاہیے۔ تمام جماعتوں اور خیالات کو مساوی مواقع دے کر ہی مقننہ کو ایک زیادہ جوابدہ، موثر اور مضبوط ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے کام کا کلچر جمہوری اقدار، نظم و ضبط اور شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے۔ کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ہوئے پریذائیڈنگ افسران سے انہوں نے جمہوریت کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *