
ابو الفضل انکلیو -شاہین باغ (لائف لائن )مین روڈ پر نالے کاگندا پانی لوگوں کےلئے بن گیا جی کا جنجال
غیر منظم ترقیاتی کام،انکروچمنٹ ، ٹریفک جام اور صاف صفائی کا مستقل نظم نہیںہونے سے لوگوں کی دقتیں بڑھیں
ماضی میں منتخب نمائندے اور سیاسی لیڈر کسی کی نجی پریشانی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے رہے ہیں
حلقہ کے عوام کی پریشانیوں کو دور کرنے کےلئے بھی انہیں آگے آنا چاہئے ،مقامی لوگ کر رہے ہیں اب ان سے مطالبہ
نئی دہلی ،18جنوری (میرا وطن )
اوکھلا اسمبلی حلقہ میں یوں تو سیور ،سڑک ،صاف صفائی ،انکروچمنٹ اور ٹریفک جام جیسے بنیادی مسائل سے لوگ عرصے دراز سے جوجھ رہے ۔حالانکہ پچھلے 30-32سالوں میںحلقہ میں بڑے پیمانے پر تر قیا تی کام بھی ہوئے ہیں ۔جبکہ ابھی بھی بہت سے عوامی مسائل ہیں جن کا فوری حل ہونا بے حدضرور ی ہے لیکن منتخب نمائندے لوگوں کو راحت دلانے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے میں مصر وف ہیں ۔حالانکہ جب کسی منتخب نمائندے کے اوپر لگے کسی الزام کی بنیاد پرپولیس یا سیکورٹی ایجنسی کے ذر یعہ دباﺅ بنایا جاتا ہے یا ان کی گرفتاری ہوئی ہے تب انہیں نمائندوں کے ذریعہ سیاسی اختلاقات ہونے کے باوجود متاثرین کے گھر پہنچ کرحمایت بھی کی جاتی ہے اوران کی حمایت میں بیان بھی دیے جاتے ہیں ۔
اوکھلا کے عوام کی بد قسمتی ہی کہیں گے کہ جب لوگوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کا وقت آتا ہے تب یہی عوا می نمائندے اپنی ذمے داری سے بھاگتے نظر آتے ہیں ۔حالیہ ابو الفضل انکلیو -شاہین باغ ( لائف لائن )مین روڈ پر نالے کا گندا پانی شاہین باغ قبرستان کے عین مقابل اسی مین روڈ پر سیلاب کی شکل میں بہہ رہا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدرفت اورراہ گیروں کا نکلنا دو بھر ہوگیا ہے جس کی کسی کو فکر نہیں ہے ۔جبکہ کئی ای رکشاءپلٹ گئے اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور میتوں کو قبرستان میں تدفین کے لئے لانے والوں خاصہ مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔اگر کسی مریض کو اسپتال جانا ہو یا کوئی ایمر جنسی آجائے تب ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کی جان پر بن آتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تحت خاص طور سے ذاکر نگر ،ابو الفضل انکلیواور سریتا وہار وار ڈ ں میں عام آدمی پارٹی کے مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان کے ذریعہ کا فی عرصے سے پرانے سیوروں کی جگہ نئی سیور لائن ڈالی جا رہی ہیں اور پھر سڑکوں کی از سر نوتعمیر ہورہی ہے ۔اس کے ساتھ پانی کی نئی لائنیں بھی بچھائی گئی ہیں اور پی این جی کی لائن کا کام بھی ہورہا ہے ۔اس کے ساتھ سیوروں کی صفائی بھی کرائی جا رہی ہے۔
حالانکہ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ترقیاتی کام تو ہورہے ہیں لیکن یہ غیر منظم ڈھنگ سے ہورہے ہیں ، سا تھ ہی کام ٹائم باﺅنڈ نہیں کیا جا رہا ہے ،کئی علا قوں میں یہ کام ادھوبرا پڑا ہے اور کہیں شروع بھی نہیں ہو سکا ہے۔ ان تینوںوارڈوں کی اندرونی گلیوں کے سیویج کے پانی کی نکا سی آبادی سے دور لے جا نے کو لے کر بھی بڑی پائپ لائن ڈالی گئی ہیں لیکن الزام ہے کہ یہ کام بھی منظم ڈھنگ سے نہیں کیا گیا ہے ۔ حالیہ شاہین باغ قبرستان کے نزدیک نالے سے سیور کا گندا پانی ابل کر مین روڈ پرآجانے کی وجہ بھی یہی بتائی جا رہی ہے ۔
ذاکر وارڈ سے کانگریس کی کونسلر نازیہ دانش کے ذریعہ اپنے وارڈ میںاندرونی گلیوں میں جھاڑو لگوانے کے ساتھ کئی مقامات پر لگے کوڑے کے امبار اور ڈھلاﺅ گھروں کی صفائی ستھرائی کا کام کرایا جا رہا ہے او ر چند ایک سڑک کی تعمیر کے ساتھ ذاکر نگر -بٹلہ ہاﺅس(لائف لائن) مین روڈپر گڑھے بھروانے کے ساتھ اسٹریٹ لائٹ (نئی لائٹیں لگوانے)ا ور پارکوں کا رکھ رکھاﺅاور سیور صفائی سمیت دیگر کام کرائے جا رہے ہیں ۔مقامی لوگ الزام لگا تے رہے ہیں کونسلر صاحبہ اپنے وارڈ میں منظور شدہ علاقے کی سڑکو ں کی تعمیر نہیں کرا پا ر ہی ہیںاور صفائی کا کام بھی منظم ڈھنگ نہیں ہوپا رہا ہے ۔
ابو الفضل انکلیو کی کانگریسی کونسلر اریبہ خان کے وارڈ کا زیادہ تر حصہ غیر منظور شدہ ہے جس میں کوئی فنڈ نہیں لگ سکتا ہے ۔حالانکہ ان کا زور صفائی ستھرائی پر رہا ہے،خاص کر سیوریج کی صفائی بھی کرائی جا ر ہی ہے اور ڈھلاﺅ گھروں سے بھی مستقل کوڑا اٹھوانے اور مین سڑکوں کے ارد گرد صفائی کے ساتھ جگہ جگہ کوڑا پھینک کر چھوٹے چھوٹے بنا دیے گئے ڈھلاﺅ گھروں سے بھی کوڑا اٹھوایا جا رہا ہے ۔ساتھ ہی نئی اسٹریٹ لائٹ لگوانے اور لائٹوں کا رکھ رکھاﺅ بھی کرایا جا رہا ہے ۔حالانکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ کونسلر صاحبہ کا فون سوئچ آف رہتا ہے اور وہ اپنی ذمے داری بھی ٹھیک سے نہیں نبھا پا رہی ہیں۔
سریتا وہار وارڈ سے بی جے پی کی کونسلر نیتو منیش چودھری کے وارڈ میں مسلم اور غیر مسلم آبادی آتی ہے او ر وہ بھی اپنے حلقہ میں صفائی ستھرائی کے کام سمیت اسٹریٹ لائٹوں کے ساتھ پارکوں کے رکھ رکھاﺅ کے کام کرا رہی ہیں ۔انہوں نے اندرونی سڑکوں پر کوڑے کی گاڑیوں کو لگوارکھی ہیں اور لوگوں سے ان میں کوڑا ڈالنے کی اپیل کرتی رہی ہیں۔سیور کی صفائی کا کام بھی کرا رہا ہے ۔مسلم علاقوں میں کوئی بھی بنیادی کام جو ان کے دائرے اختیار میں آتا ہے وہ بھی کراتی ہیں ۔حالانکہ مقامی لوگوں کو ان سے بھی کئی طرح کی شکایتیں ہیں ۔
دلچسپ یہ ہے کہ آپ کے ایم ایل اے امانت اللہ خان ،کانگریسی کونسلر نازیہ دانش اور اریبہ خان کے ساتھ بی جے پی کونسلر نیتو کے شوہر منیش چودھری کے ذریعہ ترقیاتی کام کرانے کے ساتھ سیور وں کی صفائی ،اندرونی گلیوںجھاڑوں لگانے ،ڈھلاﺅ گھروں سے ڈمپروں سے کوڑا اٹھوانے ،سڑکوں پر جگہ جگہ منی ڈھلاﺅ گھروں کی صفائی کرانے ،اسٹریٹ لائٹ ٹھیک کرانے ،نئی لائٹیں لگوانے ،پارکوں کا رکھ رکھاﺅ کرنے اور انکروچمنٹ کوہٹوانے کے ساتھ ٹریفک نظام کو معمول پر لاکر لوگوں کو راحت دلانے کی آئڈیو ویڈیو کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہیں ۔یہ منتخب نمائندے اپنی سرکاری ذمے داریوں کو نبھانے میں ایک دوسرے کا کام بتا کر نشانہ بھی بنا تے ہیں اورکسی بھی کام کرنے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں ۔منتخب نمائندوں کے ان دعوﺅں کے باوجود حلقہ کی عوام پھر بھی مسائل سے جوجھ رہی ہے ۔
دلچسپ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی ذمے داری نبھانے کا دعویٰ کر رہے ان سبھی منتخب نمائندوں کو ٹیگ کر تے ہوئے بڑ ی تعدادمیں مقامی لوگ کمنٹس بھی کر رہے ہیں ’ایک دوسرے پرالزام تراشی کے بجائے مل جل کر مسائل کا حل کراﺅ‘ ایک دوسرے کو ذمے ٹھہرانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ،بلکہ باہمی تال میل سے ہی لوگوں کو راحت دلائی جاسکتی ہے۔حالیہ میں ابو الفضل انکلیو -شاہین باغ روڈ پر نالے کا گندا پانی سڑک پر آنے اور سڑک پر گڑھے ہونے اور قبرستان کی دیوار نقصان پہنچنے کا معاملہ حساس ر خ اختیار کرچکا ہے ۔جائے وقوع پر احتجاج بھی ہورہا ہے اور عوامی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔لیکن ابھی تک کسی بھی نتیجے پرنہیں پہنچا جاسکا ہے۔
اس سلسلے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب الگ الگ پارٹیوں کے لیڈر اور منتخب نمائندے اپنی شبیہ کو بہتر بنا نے اور عوام میں اچھا پیغام دینے کے مقصد سے نجی طورپرکسی قانونی پچڑے میں پھنس جانے کے و قت ایک دوسرے کے سا تھ کھڑ ے ہوتے رہے ہیں ،تب حلقہ میں پیدا عوام کے حساس مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک ساتھ کیوں نہیں بیٹھ سکتے ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کام ایم ایل اے کے تحت آتا ہو یا کونسلر کے تحت ہے ،عوام کے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے سیاست سے اوپر اٹھ کر انہیں عوام کے حساس بنیادی مسائل کو باہمی رضا مندی سے حل کراکے لوگوں کو راحت دلانے کا ثبوت دینا چاہئے جس طرح ماضی میں کسی ذاتی پریشانی میں منتخب نمائندے اور سیاسی لیڈر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے رہے ہیں۔
مثال کے طور پر جب مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان کو سیکورٹی ایجنسیوں نے کسی معاملے میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تب سابق کانگریسی ایم ایل اے آصف محمد خان اور سابق کانگریسی کونسلر شعیب دانش نے اپنے حامیوں کے ساتھ امانت اللہ خان کے گھر پہنچ کر ا ن کی اہلیہ اور بچوں کو ڈھانڈس بندھایا تھا ،اس دوران وہ مقامی ایم ایل اے کے گھر کے باہر کرسیاں بچھا کر حمایت کرنے بھی بیٹھے تھے ۔اسی طرح جب پچھلا کونسلر کا الیکشن چل رہا تھا اور سابق ایم ایل اے آصف محمد خان کو پولیس نے ایک معاملے میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا تب ان کی بیٹی اریبہ خان الیکشن لڑ رہی تھیں ،تب امانت اللہ خان کی ٹیم یعنی الیکشن لڑ رہے سابق کونسلر واجد خان اور عارض خان نمبر دار سمیت دیگر کارکنان آصف محمد خان کی 9نمبر واقع رہائش گاہ پر حمایت میں پہنچ گئے تھے ،اس دوران امانت اللہ خان نے بھی آصف محمد خان کی حمایت میں بیان دیا تھا ۔مقامی لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ جب مصیبت کی گھڑی میں ایک دوسرے کے مد مقابل اور آئڈیا لوجی الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ساتھ آسکتے ہیں تب آج جب عوام کو ان سے مانگ کر رہی ہے تب وہ کیوں لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے ہچکچا رہے ہیں ۔
No Comments: