Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مسجد درگاہ فیض الہٰی میں قریب چودہ سو مقتدیوں نے نماز جمعہ ادا کی

انہدامی کارروائی کے بعد مسجد میںنمازیوں کو کئی طرح کی پریشانی

دہلی میںوقف ٹربیونل کی تشکیل کے معاملے پرہائی کورٹ کی سرکار کو ہدایت جاری
وقف سے متعلق تنازعات کے حل کےلئے دہلی میں ٹربیونل کا قیام فوری طو ر پر کیا جائے
سرکاراس کی رپورٹ 20 فروری 2026 تک کور ٹ میں پیش کرے
دہلی ہائی کورٹ میں اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 23 فروری کو ہوگی
مسجد اور درگاہوں کے متعلق پی آئی ایل داخل کرنے پرہائی کورٹ پہلے ہی دے چکا ہے’سیو انڈیا فاو ¿نڈیشن‘کو تنبیہ

نئی دہلی ،16جنوری (میرا وطن)
مسجد درگاہ فیض الٰہی کے احاطہ کا میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ انہدام کئے جانے کے بعد آج 16جنو ری کو نماز جمعہ امن وامان کے ساتھ قریب چودہ سو مقتدیوں نے ادا کی ،حالانکہ اس کارروائی کے پہلے جمعہ کوکل بیس لوگوں نے ہی نماز جمعہ ادا کی تھی ۔بتایا جاتا ہے کہ اس انہدامی کارروائی کے بعد نمازیوں کو کئی طرح کی پریشانی آرہی ہے ۔اس کے حل کو لے کر منیجنگ کمیٹی کے ارکان اور دیگر معز ز شخصیات مشترکہ حکمت عملی تیار کر رہی ہیں ،ساتھ ہی عدالت کے ساتھ دیگر پلیٹ فارم پر بھی لوگوں کو راحت دلا نے کا تبادلہ خیال جاری ہے۔ اس تعلق سے سوشل اینڈ آرٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے بتایا کہ انہد امی کارروائی میں بیت الخلاءنیز وضو خانہ بھی زد میں آئے جس کی وجہ سے راہگیروں کو استنجا وغیرہ کرنے میں دشواریاں پیش آئیں ۔
ایک دیگر معاملے میں محمد شاہد گنگوہی نے بتایاکہ دہلی ہائی کورٹ نے وقف ٹربیونل کی تشکیل کے معاملے پر سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ٹربیونل کا قیام فوری طو ر پر کیا جائے ، تاکہ عام لوگوں کو جلد انصاف مل سکے۔ ہائی کورٹ نے وقف (ترمیمی) ایکٹ ، 2025کے تحت ٹربیونل کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ کورٹ نے کہا کہ وقف کے معاملات میں دیر ینہ تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے ایک منظم ، مستقل اور فعال ٹربیونل بے حد ضرو ری ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے12دسمبر ہدایت جاری کی تھیں کہ ’ وقف ٹربیونل ‘ کی تشکیل دوماہ کے اندر مکمل کی جا ئے ۔ ٹر بیو نل میں ایک ’ مسلم قانون کے ماہر‘ کی شمولیت لازمی ہوگی ، جیسا کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 میں درج ہے۔ ٹربیونل کے ارکان کا انتخاب ’ دہلی وقف بورڈ ‘ اور ’ اقلیتی امور کے ڈیپارٹمنٹ کے مشو رے سے کیا جائے۔ٹربیونل کو ’تمام وقف سے متعلق دعوے ‘سننے کا اختیار دیا جائے ، چاہے وہ ز مین ، مسجد ، درگاہ یا دیگر وقف جائیدادوں سے متعلق ہوں۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ وقف ٹربیونل کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کو ہائی کورٹ میں پی آئی ایل یارٹ پٹیشن کے ذریعے آتے ہیں ، جو کور ٹ کا وقت ضائع کرتا ہے اور عام مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔
دہلی وقف بورڈ کے وکیل نے کورٹ کو بتایا کہ ’ٹربیونل کی تشکیل کے لیے جتنے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کورٹ نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’عام لوگو ں کے حقوق کا تحفظ ‘ ہے اور اس میں دیر نہیں کی جا سکتی۔ کورٹ نے دہلی سرکار کو ہدایت دی کہ وہ وقف ٹربیونل کی تشکیل کے لیے فوری طور پر ایک کمیٹی بنائے اور اس کی رپورٹ 20 فروری 2026 تک کور ٹ میں پیش کرے۔اب اس معاملہ کی آئندہ سماعت 23 فروری کو ہوگی۔
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے مساجد اور درگاہوں کے خلاف بار بار پی آئی ایل درج کرنے پر این جی او کو تنبیہ کی۔ ہائی کورٹ نے بدھ کو ایک تنظیم ’سیو انڈیا فاو ¿نڈیشن‘کو تنبیہ کی جو بار بار پی آئی ایل (عا م مفا د کی دعویٰ) درج کر رہی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہلی میں مساجد اور درگاہیں سرکاری زمین پر تجاوز کر رہی ہیں۔
چیف جسٹس دیویندرا کمار اپادھیایا اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے کہا کہ وہ تنظیم کے رو یے کو پسند نہیں کرتے اور یہ کہ وہ کورٹ کی پی آئی ایل کی حدود کا غلط استعمال کر رہی ہے۔چیف جسٹس اپادھیایا نے کہا’آپ صرف ایک قسم کی تجاوز دیکھتے ہیں؟ ہم اس کو پسند نہیں کرتے۔ آپ کورٹ کے عمل کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ہر ہفتے آپ شہر میں چکر لگاتے ہیں، کوئی دینی ساخت دیکھتے ہیں اور پی آئی ایل درج کر دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانیت کی خدمت کے اور بھی طریقے ہیں۔کیا آپ گنیز بک آف ورلڈ ریکا رڈز میں اپنا نام درج کروانا چاہتے ہیں؟ آپ کو سماج میں کوئی دوسری برائی نظر نہیں آتی؟ لوگ جو صا ف پانی نہیں پا رہے، لوگ جو بھوک سے مر رہے ہیں ۔وہ آپ کو نظر نہیں آتے؟ آپ صرف تجاوز د یکھتے ہیں؟ براہ کرم اس طرح پی آئی ایل کا غلط استعمال نہ کریں۔ یہ دعوے ہمیں پریشان کرتے ہیں ۔کورٹ نے کہا کہ وہ 21 جنوری کو اس کیس کو دوبارہ سماعت کرے گی۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *