
نئی دہلی ،16جنوری (میرا وطن)
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے جمعہ کو CSPOC 2026 خصوصی پلینری سیشن کی صدارت کرتے ہو ئے کہا کہ جدید جمہوریتو ں کو بے مثال مواقع کے ساتھ ساتھ پیچیدہ، کثیر جہتی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پریزائیڈنگ افسران کی بنیادی ذمہ داری آئینی اقدار پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے جمہو ری اداروں کو عصری تقاضوں کے مطابق مسلسل ڈھالنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اصل مطابقت شہریوں کی توقعات اور امنگوں پر پورا اترنے کی صلاحیت میں مضمر ہے، تاکہ بحث و مباحثے سے عوامی مسائل کا بامعنی حل نکل سکے۔ ان کے مطابق ، وسیع اور گہرائی سے بات چیت براہ راست زیادہ شفافیت، جوابدہی، اور مقننہ میں عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
اوم برلا نے کہا کہ اتفاق اور اختلاف دونوں جمہوریت کی طاقت ہیں، لیکن ان کا اظہار پارلیمانی نظام کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں، انہوں نے ایوان کے وقار کے تحفظ، غیر جانبداری کو یقینی بنانے اور ادارہ جاتی اعتبار کو مضبوط بنانے میں پریزائیڈنگ آفیسر کے کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کا تعلق عوام سے ہے اور انہیں معاشرے کے تمام طبقات بشمول سماجی درجہ بندی کے نچلے حصے کے لوگوں کی آواز کے لیے جگہ فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مباحثوں میں اراکین کی وسیع پیمانے پر شرکت کو یقینی بنانا، ایوان کے وقت کا متوازن استعمال اور تمام جماعتوں کے لیے یکساں مواقع چیئر کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔
اسپیکرنے ڈیجیٹل تبدیلی اور معلوماتی انقلاب کے دور میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی توقعات کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے کہا کہ ای پارلیمنٹ، پیپر لیس کام، اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس جیسے اقدامات نے قانون ساز اداروں میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال، بشمول لسانی جامعیت، زیادہ شہری پر مبنی پارلیمانوں کے لیے کلیدی معاون ہے۔
پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ انہیں اکثر “منی پارلیمنٹ” کہا جاتا ہے اور بجٹ اور دیگر قانون سازی کی تجاویز کی جانچ پڑتال میں ان کا کردار پارلیمانی نگرانی کا ایک اعلیٰ معیار قائم کرتا ہے۔ انہوں نے پریزائیڈنگ افسران پر زور دیا کہ وہ ان کمیٹیوں کو تشکیل دیں اور انہیں مزید مضبوط کریں تاکہ پارلیمنٹ کے موثر کام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون سازی کے مسودے کے عمل کو پریزائیڈنگ افسران کے ذریعے مسلسل اور قریب سے مانیٹر کیا جانا چاہیے، کیونکہ پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیے گئے قوانین شہریوں کی زندگیوں پر براہ راست اور دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی تحفظات کو نظم و ضبط، تعمیری اور ذمہ دارانہ انداز میں ایوان میں پیش کریں۔
No Comments: