Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

سی اے اےکے تحت شہریت کی سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کا کام شروع

وزارت داخلہ کے سیکریٹری اجے کمار بھلا نے سرٹیفکیٹ دے کراس آغاز کیا

نئی دہلی: حکومت نے شہریت سے متعلق (ترمیمی) قوانین (سی اے اے) کے تحت چھ کمیونٹیوں کے لوگوں کو شہریت کی سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کا کام شروع کر دیا ہے جو مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کے سیکریٹری نے بدھ کو شہریت کی سرٹیفکیٹ دے کر اس کی شروعات کی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مارچ میں سی اے اے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ضابطے کے مطابق اہل لوگوں میں شہریت کے سرٹیفکیٹ کی تقسیم شروع ہو گئی ہے۔مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا نے یہاں کچھ درخواست دہندگان کو شہریت کے سرٹیفکیٹ حوالے کئے۔ اس موقع پر داخلہ سکریٹری نے درخواست گزاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے شہریت (ترمیمی) قانون ، 2024 کے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر محکمہ ڈاک کے سکریٹری، انٹیلی جنس ڈائریکٹر اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا سمیت کئی سینئر افسران بھی موجود تھے۔
حکومت نے 11 مارچ کو شہریت (ترمیمی) قانون 2024 کے ضابطے کو وضع کیا تھا۔ یہ ضابطے درخواست کے طریقے، ضلع سطح کی کمیٹی اور ریاستی سطح کی بااختیار کمیٹی کے ذریعے درخواستوں کی جانچ کرنے اور شہریت دینے کے لیے درخواست پر کارروائی کا طریقہ فراہم کرتے ہیں۔ان قوانین کے نفاذ کے بعد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندو، سکھ، جین، بدھ، پارسی اور عیسائی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو 31 دسمبر 2014 تک مذہبی ظلم و ستم یا اس کے خوف کی وجہ سے ہندوستان آئے تھے۔ ضلع سطح کی کمیٹیوں کی سربراہی سینئر پوسٹل سپرنٹنڈنٹ، پوسٹل سپرنٹنڈنٹس بطور مجاز افسروں نے دستاویزات کی کامیاب تصدیق کے بعد درخواست گزاروں سے وفاداری کا حلف لیا۔ضابطے کے مطابق درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد کمیٹی نے درخواستوں کو ڈائریکٹر (مردم شماری آپریشن) کی سربراہی میں ریاستی سطح کی بااختیار کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔ درخواستوں کی جانچ مکمل طور پر آن لائن پورٹل کے ذریعے کی جاتی ہے۔ڈائریکٹر (مردم شماری آپریشن) کی صدارت میں دہلی کی بااختیار کمیٹی نے مناسب جانچ کے بعد 14 درخواست گزاروں کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں، ڈائریکٹر (مردم شماری آپریشن) نے ان درخواست دہندگان کو سرٹیفکیٹ فراہم کیے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *