Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

پی ایف آئی کے خلاف ملک بھر میں 20 مقامات پر این آئی اے کی چھاپہ ماری

حوض قاضی واقع پبلیکیشن ہاؤس سے شائع ہونے والی کتابیں اور دیگر مطبوعات کی چھان بین

نئی دہلی: نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بدھ کی علی الصبح ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے وابستہ لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر چھاپہ مارا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق مہاراشٹر، دہلی، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان اور تمل ناڈو سمیت ملک بھر میں 20 مقامات پر این آئی اے کے چھاپے جاری ہیں۔این آئی اے سے وابستہ ذرائع کے مطابق دہلی-این سی آر سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے گئے، جس میں پرانی دہلی پولیس اسٹیشن کے حوض قاضی علاقہ کا بلی ماران بھی شامل ہے۔اس کے ساتھ ہی وسطی دہلی کے حوض قاضی علاقے میں واقع ممتاز بلڈنگ میں بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔ اس عمارت میں ایک پبلیکیشن ہاؤس چل رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پبلیکیشن ہاؤس میں شائع ہونے والی کتابوں کی معلومات اور پرنٹ کی چھان بین کی جا رہی ہے۔
ممتاز بلڈنگ ایک بہت بڑی عمارت ہے جس کی 4 منزلیں ہیں، جہاں دہلی پولیس کے ساتھ این آئی اے کی ٹیمیں موجود ہیں۔ اس پبلیکیشن ہاؤس میں انٹری رجسٹر، فنڈنگ ​​کی تفصیلات اور ملازمین سے روزانہ پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس اشاعت میں مذہبی کتابیں بھی شائع ہوتی ہیں۔ اسی دوران راجستھان کے ٹونک، کوٹا، گنگاپور میں دیر رات سے این آئی اے کے چھاپے جاری ہیں، جہاں سے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ چھاپہ بہار کی راجدھانی پٹنہ سے متصل پھلواری شریف کے معاملے کے سلسلے میں مارا گیا ہے۔ الزام ہے کہ پھلواری شریف میں پی ایف آئی سے وابستہ لوگوں کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے مقصد سے ایک تربیتی سیشن منعقد کیا جا رہا تھا۔ تنویر رضا عرف برکاتی اور محمد عابد عرف آریان کو اسی کیس میں تفتیشی ایجنسی نے گرفتار کیا تھا۔
گذشتہ سال مرکزی حکومت نے پی ایف آئی پر پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی تھی۔ اس کے بعد اس تنظیم سے وابستہ تقریباً ساڑھے تین سو افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ تاہم اتنی بڑی کارروائی کے بعد بھی اس تنظیم سے وابستہ کئی لوگ اب بھی کئی ریاستوں میں سرگرم ہیں۔ اس لیے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحقیقاتی ایجنسی ان لوگوں کو بہت سنجیدگی سے تلاش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں مناسب قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *