
نئی دہلی ،6مارچ (میرا وطن)
امریکہ اور سرائیل کے ذریعہ کی گئی بمباری میںاسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خا منہ ای کو شہید کئے جانے پر دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے ۔صہیونی امریکہ اور اسرائیل اس ظالمانہ کارروائی کے خلاف ملک اور راجدھانی میں بھی کئی دنوں سے احتجاجی مظاہرے ،کینڈل مارچ ،جلسے و جلوس اور تعزیتی پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں ۔وسطیٰ دہلی ،جنوبی دہلی،مشرقی اور شمال مشرقی دہلی میں احتجاج مظاہروںکا سلسلہ جاری ہے ۔گزشتہ رات جامعہ نگر کے شاہین باغ سے اوکھلا وہار تک کینڈ ل مارچ نکالا گیا اور شمال مشرقی دہلی میں لوگ سڑک پر نکل کر احتجاج کرتے دکھائی دیے ۔آج جمعہ کو بعد نماز جمعہ شیعہ جامع مسجد ،درگاہ شاہ مرداں جور باغ ،امامیہ ہال پنچکوئیاں روڈ،مسجد باب العلم ،مسجد مصطفی جوگا بائی ایکسٹینشن ،مدر سہ اہلبیت ابو الفضل انکلیو، مسجد علی نقی جعفر آباد ،حیدری ہال ،مسجد سوئیوالا ن سمیت دیگر مساجد میں احتجاج درج کیاگیا ۔
انجمن شعیتہ الصفا دہلی کے زیر اہتمام شیعہ جامع مسجد کشمیری گیٹ پر نماز جمعہ کے بعدامریکہ و اسرائیل کے ذریعہ رہبر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے سفا کانہ شہادت کی پر زور مذمت کی گئی۔اس موقع پر امام شیعہ جامع مسجد مولانا سید علی محسن تقوی آیت اللہ خامنہ ای کے مشن کے بارے میں بیا ن کرتے ہو ئے کہا کہ آپ کی پوری زندگی مظلوموں کی داد خواہی انسانیت کی خدمت اور ظالمین جہا نی کے خلا ف بر سر پیکار رہے اور آخر میں ظلم و ستم کا نشانہ بنے اور اسی راہ میں شہید ہوگئے ۔
آل انڈیا شیعہ کونسل کے سکریٹری مولانا مر زا عمران علی نے کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے داعی رہے اور پوری دنیا کو ظلم و ستم کے خلاف دعوت عمل دیتے رہے انسانیت کے لئے آپکی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آپ کسی ایک ملت یا ملک کا سرمایہ نہیں تھے بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک امن کے سفیر تھے اس کا واضح ثبوت دنیا کے ظالم و جابر افراد کے ذریعہ آپ کا شہید ہونا ہے ۔ اس موقع پر مولانا محمد رضا نے بھی اظہار خیال کیا ۔
اس موقع پر مولانا مرزا اظہر عباس ،مولانا سرکار مہدی ،مولانا شاہنواز غدیری ،مولانا شہزاد علی ،انجمن شعیتہ الصفا کے اراکین سید قسیم حیدر رضوی ،ظاہر حسین ،راشد حسین ،محمد سبطین پرویز زیدی سمیت کثیر تعداد مومنین موجود تھے ۔آخر میں انجمن شعیتہ الصفا دہلی کے سکریٹری مرزا سرفراز حسین نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
No Comments: