Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

اسکون کی جانب سےمینکا گاندھی کو 100 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس

سوسائٹی کےنائب صدر رادھارمن داس نے کہا کہ بی جے پی رکن پالیمنٹ کی بات سے عقیدت مندوں کو شدید تکلیف پہونچی ہے

نئی دہلی: بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی کے اس تبصرے کے بعد کہ انٹر نیشنل سوسائیٹی کرشنا کنشسنیس (اسکون) “سب سے بڑا دھوکہ” ہے کیونکہ وہ اپنی گوشالوں سے قصا بوں کوگائے فروخت کرتی ہے۔ ،اسکون کی جانب سے انہیں 100 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں نائب صدر رادھارمن داس اور اسکون کولکتہ کے ترجمان نے کہا، “آج ہم نے مسز مینکا گاندھی کو اسکون پر مکمل طور پر بے بنیاد الزامات لگانے کے لیے 100 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے۔”
انہوں نے کہاکہ “اسکون کے عقیدت مندوںاور خیر خواہوں کی عالمی برادری کو اس ہتک آمیز اور بدنیتی پر مبنی الزامات سےشدید تکلیف پہونچی ہےاورہم اس جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف انصاف کے حصول میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ مینکا گاندھی جو جانوروں کے حقوق کی کارکن بھی ہیں،کے خلاف قانونی ہتک عزت کا نوٹس 27 ستمبر کو ان کی اسکون کے سلسلے میں ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے دن بعدبھیجا گیا ہے۔رادھارمن داس نے 27 ستمبر کو ایک ٹویٹ میں کہا تھاکہ مینکا گاندھی اپنے غلط بیان پر معافی نہیں مانگتی ہیں تو ہم ان پر مقدمہ کریں گے”۔
وائرل ویڈیو میںانہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: “اسکون ملک کا سب سے بڑا دھوکہ ہے، یہ گوشالوں کی دیکھ بھال کے نام پر وسیع اراضی سمیت حکومت سے دوسرےفائدے بٹورتا ہے۔انہوں نے آندھرا پردیش میں اسکون کی اننت پور گوشالا کے اپنے دورے کو یاد کر دعویٰ کیا ہےکہ انہیں کوئی ایسی گائے نہیں ملی جو دودھ نہ دیتی ہو۔وہ ویڈیو میں کہہ رہی ہیں کہ پوری ڈیری میں کوئی سوکھی گائے نہیں ملی۔ وہاں ایک بھی بچھڑا نہیں تھاجس کا مطلب ہے کہ سب بیچ دیا گیا تھا۔” مینکا گاندھی نے الزام لگایاتھااسکون اپنی تمام گائیں قصابوں کو فروخت کر دیتی ہے۔ مینکا گاندھی نے ویڈیو میں یہ بھی کہہ رہی ہیں کہ اسکون ے منسلک لوگ آگے بڑھ کر سڑکوں پر ’ہرے رام ہرے کرشنا‘ گاتے ہیںاوریہ کہتے ہیںکہ ان کی ساری زندگی دودھ پر منحصر ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ کسی نے اتنے مویشی قصابوں کو فروخت نہیں کیے جتنے کہ اسکون نے کئےہیں ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *