
دہلی سرکار کے اقلیتوں (مسلمانوں)سے منسلک اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر سالوں سے تقرری نہیں
دہلی وقف بورڈ اور دہلی اقلیتی کمیشن کی تشکیل سال 2023سے نہیں ہوئی ہے
دہلی اردو اکادمی کی جنرل باڈی فروری 2025سے نہیں ہوئی ہے تشکیل
دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی مدت کار5جنوری2026 کوہوگئی ہے ختم
نئی دہلی ،10جنوری (میرا وطن)
اسپیکر وجیندر گپتا نے دہلی اسمبلی کے پانچ روزہ سرمائی اجلاس کی کارروائی کے منظم اور ہموارانعقاد کو یقینی بنانے کے لئے تمام تیاریاں کی تھیں۔حالانکہ ان کی لاکھ کوششوں کے باوجود اجلاس ہنگامہ آرائی کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کا زیادہ تر وقت غیر ضروری مدعوں پرہی فوکس رہا اور بر سر اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتے دکھائی دیے ۔اس جلاس میں عوام کے بنیادی مد عے غائب رہے،اراکین اپنے اپنے اسمبلی حلقوں کے مدعے بھی نہیں اٹھا سکے اور نہ ہی سرکاری اسکیمو ں اور منصوبوں پر کوئی خاص بحث ہوئی ۔ دلچسپ یہ ہے کہ چار مسلم ایم ایل ایزعمران حسین ،امانت اللہ خان ،آل محمد اقبال اور چودھری زبیر احمد نہ تو اپنے اپنے اسمبلی حلقوں کے عوامی مدعے اٹھا پائے اور نہ ہی سرکار کے تحت مسلم اداروں دہلی وقف بورڈ ،دہلی اقلیتی کمیشن ،دہلی اردو اکادمی اور دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے مدعوں کو اسمبلی ایوان میں اٹھا سکے ۔
دلچسپ ہے کہ یہ اجلاس دہلی کے چار مسلم ممبران اسمبلی کے نظریہ سے بھی اہم ماناجا رہا تھا کیا وہ دہلی سر کا ر سے منسلک اقلیتی اداروں میں خاص کر دہلی وقف بورڈ،دہلی اقلیتی کمیشن ،دہلی اردو اکادمی اور دہلی ا سٹیٹ حج کمیٹی کی نئی باڈی کی تشکیل نو کے مدعے اٹھائیں گے۔کیونکہ آپ کی سرکار کی مدت کارکے د و را ن بی جے پی اور اس کے لیڈر اقلیتی اداروں کو لے کر اروند کجریوال پر نشانہ سادھتے رہے۔اس اجلا س میں بھی بی جے پی نے آپ کی سابقہ سرکارکو گھیرنے کی پوری کوشش کی ،جس کاجواب آپ کے ایم ایل ایز نے پر زور طریقہ سے دیا۔ حالانکہ پار ٹی کے بلیماران سے ایم ایل اے عمران حسین ،اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان ،سیلم پور کے ایم ایل اے چودھری زبیر احمد اور مٹیا محل کے ایم ایل ا ے آل محمد اقبال نے ایوان سے باہربی جے پی سر کار کودیگر مدعوں پر تو گھیرا لیکن اپنے حلقو ں کے عوامی مدعوں سمیت مسلم اداروں کے متعلق ایک طرح سے خاموشی اختیار کر لی ۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی وقف بورڈ اور دہلی اقلیتی کمیشن دو سال اس سے زائد عرصے سے تحلیل پڑے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دہلی وقف بورڈ اوردہلی اردو اکادمی ملازمین کی کمی کی وجہ سے کام کاج سست روی چل رہا ہے۔حالانکہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی میںحج امور کا کام زور شور سے چل رہے لیکن اب کمیٹی کے چیئر مین کی مدت کار بھی ختم ہونے جا رہی ہے۔دہلی میں سیاسی تبدیلی کے پہلے عام آدمی پارٹی کی سرکار پر الزام لگتے رہے کہ وہ اقلیتوں خاص مسلمانوں سے منسلک اداروں کی تشکیل نو میں سرد مہری اختیار کر رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو سرکاری منصوبوں اور اسکیموں کا فائدہ نہیں مل پارہا ہے،لیکن بی جے پی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی مسلم اداروں کی حالت جس کی تس بنی ہوئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اگست 2023سے دہلی وقف بورڈ تحلیل پڑا ہے۔ماضی میں عام آدمی پارٹی کی کجریوا ل سرکار نے کوئی پیش رفت نہیں کی اور اس کی وجہ آپ کے اوکھلا کے ایم ایل اے اور اس وقت کے و قف بورڈ کے چیئر مین کے کام کاج پر سوال اٹھے ،جس کے بعدسی بی آئی اور ای ڈی کی کارروائی اور ا ن پر ابھی تک بے ضابطگیوں کے کیسز کا معاملہ عدالت میں زیر غورہے۔ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ،لیکن دہلی وقف بورڈ کی تشکیل نو کا ابھی تک کچھ اتا پتہ نہیں ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن بھی گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے تحلیل پڑا ہے۔پچھلی عام آدمی پا ر ٹی کے دور اقتدار میں سال 2023میں مدت ختم ہونے کے بعدکمیشن کی تشکیل میںکوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔فی الحال سیاسی تبدیلی کے بعد نئی سرکار بننے کے بعد بھی بی جے پی سرکار میں بھی چیئر مین کی تقرری کو لے کر کوئی ہلچل دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی اردو اکادمی کی مدت بھی فروری 2025میں ختم ہوچکی ہے اور نئی باڈی کی تشکیل کو لے کر بھی کوئی سرگرمی دکھائی نہیںدے رہی ہے۔حالانکہ آجکل دہلی اردو اکادمی کے تعاون سے کچھ غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں مشاعرے کرا رہی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اردو اکادمی کے ذریعہ مذکورہ مشاعروں کی مد میںبڑے پیمانہ پر مالی تعاون بھی کیا جا رہا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی مدت کار بھی نئے سال یعنی جنوری کے پہلے ہفتے میں ختم ہوگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی نئی باڈی کو لے کر کارروائی چل رہی ہے لیکن ابھی فا ئل کس سطح پر پروسز میں ہے سرکاری سطح پر کوئی جانکاری ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔
No Comments: