Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مودی راج میں ملک کی راجد ھانی میں آئیسا کی خواتین رہنماﺅں کو تھانہ میں گالیاں دی گئیں :سنجے سنگھ

اگر یہی واقعہ دہلی کے بجائے پنجا ب یا بنگال میں ہوتا تو بی جے پورے ملک ہنگامہ کھڑا کردیتی

نئی دہلی، 15فروری(میرا وطن)
ملک کی راجدھانی کے ایک تھانے میں آئیسا کی خواتین رہنما ¶ں کے ساتھ تھانے کے اندر بدزبا نی اور گالی گلوج کے معاملے پر مودی سرکار سمیت سب کی خاموشی پر عام آدمی پارٹی نے سوال اٹھایا ہے ۔آپ کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے اس واقعے کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں تھانے کے اندر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں آئیسا کی خواتین رہنما انجلی اور نہا کو ماں کی گالی دی گئی اور کہا گیا کہ کپڑے اتارو۔ ایک بہار کی بیٹی ہے اور دوسر ی اتراکھنڈ کی۔ دونوں اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن محروم طبقات کے حق میں آواز اٹھانا ان کا جرم بن گیا۔ اگر یہی واقعہ پنجاب یا بنگال میں ہوتا تو بڑا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا، لیکن مودی راج میں اتنے بڑے واقعے پر چاروں طرف خاموشی ہے۔ بیٹی بچا ¶ کا نعرہ دینے والے مودی جی کہاں ہیں؟
سنجے سنگھ نے کہا کہ ملک کی راجدھانی دہلی میں، جہاں صدرِ جمہوریہ، وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ رہتے ہیں اور جس کی سکیورٹی کی ذمہ داری وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کے پاس ہے، وہاں دہلی یونیورسٹی میں عرفان حبیب پر پانی اور پتھر پھینکے گئے، جس کی چاروں طرف مذمت ہوئی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ شرمناک واقعہ تھانے کے اندر پیش آیا۔ آئیسا کی خواتین رہنما نہا اور انجلی کو پولیس والوں کے سامنے ماں کی گالیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ کپڑے اتار لو۔ یہ سب ملک کی راجدھانی دہلی میں ہو رہا ہے، جو مودی جی کے بیٹی بچا ¶، بیٹی پڑھا ¶ نعرے کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھانے کے اندر پولیس اہلکاروں کے سامنے خواتین کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور کپڑ ے اتارنے کی دھمکی دی جا رہی ہے، لیکن چاروں طرف خاموشی طاری ہے۔ نہ کوئی کارروائی ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی سنجیدہ بحث۔ اگر ایسا واقعہ تمل ناڈو، پنجاب یا بنگال میں پیش آتا تو قانون و انتظام پر شور مچایا جاتا، مگر ملک کی راجدھانی میں سب کچھ ہونے کے باوجود ذمہ داران خاموش ہیں۔
سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ اتنے بڑے واقعے پر چھائی خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ کسی کے وقار اور احترام کی کوئی قدر نہیں رہی۔عوام کی آواز اٹھانے والوں کی ذمہ داری صرف نریندر مودی اور ان کی حکومت کی خوشامد کرنا رہ گئی ہے۔ انہوں نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مسائل کو مضبوطی سے اٹھائیں اور دہلی میں پیش آنے والے ایسے واقعات پر سنجیدہ بحث شروع کریں۔

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *