
نئی دہلی،12اپریل (میرا وطن نیوز)
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (یو ڈی او)نے مسلسل یہ کوشش کی ہے کہ سرکار کے قائم کردہ ادارے و ار د و اکیڈمیز یا قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل )یہ سب مرکزی سرکار اور ریاستی سر کا رکے ذریعہ چلائے جاتے ہیں اوران کے تحت کام کرتے ہیں۔ظاہر ہے جب یہ سب سرکار کی مشینری ہیں تو اسی طور پر انہیں چلنا چاہئے۔اگر یہ ادارے یا کونسل حسب ضابطہ تشکیلی عمل میں فیل ہوتے ہیں یا ناکارہ بن جاتے ہیں تو اس کے لیے مرکزی سرکار اور صوبائی حکومتیں براہ راست ذمے دار قرار پائیں گی۔
اس موقع پریوڈی او کے قومی صدرڈاکٹر سید احمد خاں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ قومی کو نسل برائے فروغ اردو زبان وزارت تعلیم کے تحت آتا ہے اور اس کے چیئرمین وزیر تعلیم ہوتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پی ایم او کے مثبت جواب آنے کے باوجود تقریبا ڈھائی سال سے کانسٹی ٹوٹ ہوئی باڈی کی نہ تو میٹنگ ہوئی ہے اور نہ ہی کونسل کو دیکھنے والی وزارت کے وزیر کے پاس وقت ہے۔ اب تک وائس چیئرمین کا تقرر نہیں ہو پایا ہے۔وزیر تعلیم کا پچھلے تقریبا ڈھائی سال سے قومی کونسل برائے فروغ ا ±ردو زبان کے کاموں کیلئے یا پھر مستقبل کے منصوبہ سازی کیلئے کوئی میٹنگ نہ کرنے سے ا ±ردو طبقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا کہ سرکار سے ہم ایک مرتبہ پھر گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے کو وہ سنجیدگی سے لے چونکہ ا ±ردو زبان کا معاملہ ایک قومی معاملہ ہے۔ ا ±ردو کسی خاص فرقہ یا مذہب کی زبان نہیں ہے یہ بھارت کی زبان ہے یہی پھلی پھولی اور پروان چڑھی لوگوں نے اسے موثر زبان کے روپ میں تسلیم کیا اور آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں پر یہ پیاری زبان راج کرتی ہے۔
ڈاکٹر سید احمد خاں نے اردو کی اہمیت و افادیت اور عوام میں اس کی مقبولیت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریختہ جیسے پلیٹ فارم ا ±ردو کو موجودہ تقاضوں کی بنیاد پر عوام تک پہنچارہے ہیں اور جب جشن ریختہ کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو رقم ادا کرنے کے باوجود آسانی سے انٹری پاس نہیں ملتے جو اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ اردو کے چاہنے والوں کی تعداد کم نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندی فلموں میں اردو زبان کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
No Comments: