
انقلاب اسلامی ایوان کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ایران کلچرہاﺅس میں علمی اور ثقا فتی کانفرنس منعقد
نئی دہلی، 5 فروری(میرا وطن)
انقلاب اسلامی ایوان کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر جمعرات کوایران کلچرہاﺅس میں ایک علمی اور ثقا فتی کانفرنس ’طاقتور ایوان ،فاتح قوم ‘ تصاویر اور پوسٹر کی نمائش کے ساتھ ’ باعث فخر ایران کی کہانی ‘ کا ا نعقاد کیا گیا ۔اس کانفرنس میں تصاویر اور ویڈیو کے ذریعہ انقلاب سے پہلے ایران اور انقلاب کے بعد ایران کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔کانفرنس میں ہندوستان میں امام خامنہ ای کے نمائندے پروفیسر ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہٰی ،ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی،ممبر پارلیمنٹ حنیفہ جان اور ایم پی سی رہنما ڈاکٹر تسلیم رحمانی بطور خاص موجود تھے ۔اس موقع پر ایران کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر نے ہند وستان اور ایران دونوں ممالک کے مابین بے حد قریبی اور قدیمی رشتوں کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے کہا کہ ہند۔ایران دونوں دوست ملک ہیں ۔
اس موقع پرہندوستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ سینتالیس برس قبل ایران کی عظیم قوم نے خدائے قادرِ مطلق پر ایمان، امام خمینی کی بصیرت افروز قیادت، اور مضبوط قومی عزم کے سہار ے ایک ایسا نیا نظام قائم کیا جو استقلال، آزادی اور مذہبی جمہوریت پر مبنی ہے۔ اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی نہ صرف ایران کی جدید تاریخ کا ایک اہم موڑ تھی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایک مو ¿ثر واقعہ ثابت ہوئی، جس نے ایک بار پھر اقوام کے اپنے مقدر کے تعین میں کردار کو نمایاں کیا۔
ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد ہی اسلامی انقلاب کو مختلف خطرات اور دشمنیوں کا سامنا کرنا پڑا — مسلط کردہ جنگ، منظم دہشت گردی، غیر منصفانہ پابندیاں، اور سیاسی، اقتصادی و ابلاغی دباو ¿۔ اس کے باوجود، اندرونی صلاحیتوں، نوجوان انسانی وسائل، اور ‘ہم کر سکتے ہیں’کے اسٹر یٹجک یقین پر بھروسہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران نے استقامت کے ساتھ ترقی، خود انحصاری اور استحکام کی راہ جاری رکھی۔
ڈاکٹر علی نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ نینو ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، اسٹیم سیلز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور علم پر مبنی صنعتوں جیسے جدید شعبوں میں ترقی نے ایران کو شدید ترین پابندیوں کے باوجود خطے میں سا ئنسی پیداوار کے سرِفہرست ممالک میں شامل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم ماضی کا حقیقت پسندا نہ جائزہ لیں تو پہلوی دور میں ایران کی معیشت انحصار اور کھپت پر مبنی تھی۔ قومی دولت کا بڑا حصہ ایسی اشیاءکی درآمد پر خرچ ہوتا تھا جن کی سادہ ترین تیاری بھی ملک میں ممکن نہ تھی۔ پابندیوں کے بغیر بھی اس دور میں ایران عملاً مغربی منصوبوں کا علاقائی ٹھیکیدار بن چکا تھا۔
ڈاکٹر علی نے کہا کہ آج، چار دہائیوں سے زائد غیر منصفانہ پابندیوں کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران ‘مزاحمتی معیشت’ کی ایک عملی مثال بن چکا ہے۔ تیل پر انحصار اور درآمدی معیشت سے نکل کر مقامی پیداوار اور علم پر مبنی معیشت کی طرف پیش رفت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ ایران آج زرعی اور صنعتی شعبوں کی کئی اسٹریٹجک مصنوعات میں خود کفیل ہے اور خطے میں علم پر مبنی مصنوعات و خدمات کا برآمد کنندہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کامیابی کوئی معجزہ نہیں بلکہ پابندیوں کے ‘خطرے’ کو ‘اعتماد کے موقع’میں بدلنے کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر علی نے کہا کہ دفاعی میدان میں آج کے ایران اور قبل از انقلاب ایران کے درمیان فرق واضح ہے۔ اس وقت فوج مکمل طور پر غیر ملکی سازوسامان اور مشیروں پر منحصر تھی، اور بنیادی فیصلے بھی بیرونی منظوری کے بغیر ممکن نہ تھے۔ آج مقامی علم و مہارت کے سہارے اسلامی جمہوریہ ایران خطے کی ایک اہم دفاعی اور بازدار طا قت بن چکا ہے، جو جدید میزائل، ڈرون اور ریڈار نظام تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایران کو سازشوں اور ہائبرڈ جنگ کے ایک نئے مرحلے کا سامنا رہا ہے۔ ایران کی سیا سی خودمختاری، سائنسی ترقی اور قومی طاقت سے خائف دشمنوں نے اقتصادی دباو ¿ ، نفسیاتی کارروائیوں اور میڈیا جنگ کے ذریعے قوم کی پیش رفت روکنے کی کوشش کی، مگر حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ماضی کی طرح یہ کوششیں بھی ناکام رہیں گی۔گزشتہ سینتالیس برسوں میں ایرانی قو م نے ایسے امتحانات اور بحرانوں کا سامنا کیا ہے جو کسی عام ملک کو گرا سکتے تھے۔ آج ایرانی قوم خدا ئے قادرِ مطلق پر ایمان اور رہبرِ معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کی دانشمندانہ قیاد ت میں پہلے سے زیادہ مضبوط ،باشعور اور پر عزم ہے اور ترقی کے اپنے راستے پر ثابت قدمی سے گامزن ہے۔تقریب میں مختلف تنظیموں کے رہنماﺅں کے ساتھ سماجی ،ملی شخصیات کے ساتھ خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
No Comments: