
نئی دہلی، 5 فروری، (میرا وطن)
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے ڈی ٹی سی کے محکمہ سماجی بہبود کے ملازمین کے ذریعہ ڈی ٹی سی ایمپلائز ویلفیئر فنڈ سے 22 لاکھ روپے سے زیادہ کے غبن کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایل جی اور وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ ملازمین کے فنڈز سے متعلق اس معاملے میں ذاتی طور پر مدا خلت کریں، قصور وار ملازمین کے خلاف کیس درج کریں اور مجرمانہ اور محکمانہ کارروائی شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممکن ہو تو ایل جی ا ورزیر اعلیٰ بھی اپنی سرکار کے تحت ڈی ٹی سی محکمہ میں بے قاعدگیوں کے اس معا ملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کروا سکتے ہیں۔
ریاستی صدر نے کہا کہ اگر ڈی ٹی سی تقریباً 97ہزارکروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کر رہی ہے، اس کے ملازمین کی فلاح و بہبود کے فنڈ میں 22لاکھ کی دھوکہ دہی کی گئی ہے، تو وہ عوام کے لیے اپنے فرا ئض کی انجام دہی کے دوران ذہنی طور پر صحت مند کیسے رہ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات ڈی ٹی سی کے اندر منظم بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کرے گی۔
دیویندر یادو نے کہا کہ ڈی ٹی سی میں بڑے پیمانہ پر بدعنوانی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چیف ویجیلنس آفیسر (سی وی او) کا عہدہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے خالی پڑا ہے۔ ڈی ٹی سی میں سی وی او کا عہدہ برائے نام اضافی چارج سسٹم کے تحت ایک محکمانہ افسر کے پاس ہے،جبکہ مستقل آئی پی ایس افسر سے پرکیا جانا چاہیے۔
No Comments: