
نئی دہلی ،لکھنو ¿۔ 16 فروری (میرا وطن)
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (اُترپردیش) کی جانب سے عالمی یونانی میڈیسن ڈے کی پر تقریب رو یندرالے آڈیٹوریم، لکھنو ¿ میں زیرصدارت پروفیسر مشتاق احمد منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ملک بھر سے یونا نی ڈاکٹروں نے شرکت کی اور اتفاق رائے سے تجویز منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ طب یونانی کے مکمل فروغ کے لیے لازمی طور پر دہلی، گجرات، مغربی بنگال، بہار، ہریانہ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ ، مدھیہ پردیش اور آسام کے محکمہ آیوش میں ڈپٹی ڈائرکٹر یونانی کے تقرر کو یقینی بنایا جائے نیز مسیح الملک حکیم اجمل خاں کو بھارت رتن دیا جائے اور ان کے نام سے نیشنل یونانی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔
مہمان خصوصی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیورویدا نئی دہلی کے ڈائرکٹر پروفیسر پردیپ کمار پرجاپتی نے اپنے خطاب میں اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ مرکزی سرکارنے ملک میں رائج دیسی طریقہ علاج کے فروغ کے لیے نہ صرف الگ سے آیوش وزارت قائم کی بلکہ آیوش میں شامل سبھی طریقہ علاج کو یکساں ترقی کے لیے پالیسی بنائی۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز مجاہد آزادی مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے یوم پیدا ئش کو حکومت ہند نے یونانی میڈیسن ڈے کے طور پر منظوری دی۔ اس کی وجہ سے حکیم اجمل خاں کو بھی سمجھنے کا موقع ملتا ہے، ان کی شخصیت ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
اس موقع پر مولانا خالد رشید فرنگی محلی (شاہی امام عیدگاہ لکھنو ¿)، پروفیسر عبدالحلیم، ڈاکٹر محمود احسن صد یقی ، ڈاکٹر رگھوویر سنگھ، پروفیسر عبدالقوی، ڈاکٹر سکندر حیات صدیقی، پروفیسر محمد ادریس، پروفیسر ایس ایم عارف زیدی، پروفیسر راشد قاضی، ڈاکٹر ٹی یو صدیقی، ڈاکٹر نجم السحر، ڈاکٹر شجاع الدین احمد اور ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ ڈاکٹر محمد طاہر (سابق ایڈوائزر یونانی، حکومت ہند) کے علاوہ ڈاکٹر ایس ایم یعقوب، ڈاکٹر صباحت اللہ امروہوی، ڈاکٹر لائق علی خاں، ڈاکٹر مجیب الرحمن، ڈاکٹر یاسر قریشی، ڈاکٹر محمد خالد لکھنوی، ڈاکٹر خبیب احمد، ڈاکٹر احمد جمال، ڈاکٹر سیّد زین العابدین، پروفیسر شبیر احمد، ڈاکٹر نفیس احمد، ڈاکٹر اے ایچ لاری، پروفیسر ایم اے فاروقی، ڈاکٹر منی رام سنگھ، ڈاکٹر بلال احمد، حکیم ارباب الدین، حکیم عزیر بقائی، ڈاکٹر شکیل احمد میرٹھی، ڈاکٹر ذکی الدین، ڈاکٹر مرزا آصف بیگ، حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی، ڈاکٹر خورشید عالم، ڈاکٹر جاوید انور، ڈاکٹر سیّد منصور جمال کاظمی، شکیل احمد ہاپوڑی، ڈاکٹر اطہر محمود، ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی، ڈاکٹر فہیم ملک، ڈاکٹر احسان صدیقی، ڈاکٹر فیضان احمد صدیقی، ڈاکٹر فرمان علی صدیقی، ڈاکٹر طیب انجم، ڈاکٹر محمد اعزاز خاں، ڈاکٹر اعجاز علی قادری، ڈاکٹر فرقان رضا، ڈاکٹر ذیشان انصاری، ڈاکٹر عاصم قدوائی، ڈاکٹر راشد قدوائی، ڈا کٹر محمد دانش، ڈاکٹر محمد راشد الٰہ آبادی، ڈاکٹر محمد اکمل علوی، ڈاکٹر جاوید کمال، ڈاکٹر وجاہت امروہو ی، ڈاکٹر اللہ نواز، ڈاکٹر ناصر علی، جناب قاضی عبدالباسط، محمد اویس گورکھپوری، ندیم عارف اور محمد عمرا ن قنوجی وغیرہ اہم شرکاءموجود تھے۔ اس موقع پر مجلہ عالمی یوم یونانی میڈیسن 2026 (خصوصی گوشہ، ڈاکٹر محمد فضل الرحمن شرر مصباحی: حیات و خدمات) کا اجرا بھی عمل میں آیا۔
اس تاریخ ساز موقع پر حکیم وسیم احمد اعظمی (لکھنو ¿)، حکیم محمد عرفان نجف علیمی (الٰہ آباد)، ڈاکٹر عبیداللہ بیگ (چنئی)، پروفیسر نفاست علی انصاری (لکھنو ¿)، پروفیسر اشہر قدیر (علی گڑھ)، پروفیسر سلیم اختر (اندور)، پروفیسر ارشد علی (لکھنو ¿)، پروفیسر قاضی راشد انور (ممبئی)، پروفیسر عبدالرحمن شیخ (اورنگ آباد)، ڈاکٹر سہیل احمد (کولکاتا)، حکیم ارشد کافی (الٰہ آباد)، ڈاکٹر ذکی احمد صدیقی (دہلی)، ڈاکٹر محمد خالد صدیقی (لکھنو ¿)، ڈاکٹر شائستہ عروج (دہلی)، پروفیسر عطاءاللہ خاں (بستی)، پروفیسر محفوظ الرحمن (بھوپال)، ڈاکٹر محمود عالم (دہلی)، ڈاکٹر شہناز پروین (دہلی)، ڈاکٹر محمود احسن صدیقی (جے پور)، ڈاکٹر ذاکر حسین (جے پور)، ڈاکٹر فیروز احمد (جے پور)، پروفیسر سراج الحق خان (جے پور)، پروفیسر سیّد عبدالمجیب (ٹونک)، حکیم آفتاب عالم (کانپور)، ڈاکٹر صدیق احمد خان (پرتاپ گڑھ)، ڈاکٹر محمد اقبال (فیض آباد)، حکیم محمد اسحاق (بنگلور)، حکیم محمد اشرف لون (کشمیر)، ڈاکٹر عقیل احمد (اعظم گڑھ)، حکیم ارباب الدین (دہلی)، حکیم عزیر بقائی (دہلی) کے علاوہ شاہی لیباریٹریز، اون ہربل ریمیڈیز، نیشنل لیباریٹریز آف انڈیا حکیم اجمل خاں عالمی یونانی میڈیسن ڈے ایوارڈ سے سرفراز ہوئے۔
اس کے علاوہ حکیم اجمل خاں سپر اسٹار میں حکیم رشاد الاسلام (الٰہ آباد)، ڈاکٹر نعمان احمد (اعظم گڑھ )، پروفیسر محمد اسداللہ (کولکاتا)، ڈاکٹر توحید احمد خاں (امبیڈکر نگر)، ڈاکٹر محمد عظیم اشرف (اکبرپور)، ڈاکٹر محمد راشد انصاری (مﺅ)، ڈاکٹر ابوالبشر (اعظم گڑھ)، ڈاکٹر شکیب احمد خان (امبیڈکر نگر)، ڈا کٹر مصباح الدین (سیتاپور)، ڈاکٹر صدف فردوس (لکھنو ¿)، اسرار احمد اُجینی (جے پور)، ایڈوکیٹ شاہ جبیں قاضی (دہلی)، ڈاکٹر عامر عباس (لکھنو ¿)، حکیم محمد اشفاق (لکھنو ¿)، ڈاکٹر محمد ثاقب (لکھنو ¿)، ڈاکٹر البینہ (لکھنو ¿)، ڈاکٹر علینا افضل (لکھنو ¿)، ڈاکٹر نازیہ انجم (الٰہ آباد)، ڈاکٹر صفدر اسمٰعیل (کو لکا تا)، ڈاکٹر عبدالعظیم خاں (بھوپال)، ڈاکٹر نیاز انصاری (کانپور)، ڈاکٹر عتیق احمد (لکھنو ¿)، ڈاکٹر اسلام محمد تباب (اُناﺅ)، ڈاکٹر وحیدالرحمن (اُناﺅ)، ڈاکٹر حفظ الرحمن (اُناﺅ)، ڈاکٹر فاروق احمد ڈار (سر ینگر)، حکیم غلام محی الدین تیلی (سوپور، کشمیر)، ڈاکٹر انیس الرحمن (اجمیر)، ڈاکٹر حفظ الرحمن (کرولی)، ڈاکٹر عارفہ خاتون (لکھنو ¿)، ڈاکٹر شوکت حسین (پانی پت)، ڈاکٹر دانش (بجنور)، ڈاکٹر سمبل عالم (لکھنو ¿)، ڈاکٹر محمد اکرم قریشی (جے پور) ، ڈاکٹر سیّد منہاج مشتاق احمد (ناسک، مہارا شٹر)، ڈاکٹر محسن جمال شیخ (سلواسہ)، ڈاکٹر محمد قاسم خان (ممبئی)، ڈاکٹر غلام اشتیاق احمد صدیقی (اورنگ آباد)، ڈاکٹر انس الدین رکن الدین فاروقی (ممبئی)، ڈاکٹر ناہیدہ خان (ناگپور)، ڈاکٹر محمد عارف (اعظم گڑھ)، ڈاکٹر شاہ خالد (اعظم گڑھ)، ڈاکٹر شاداب اعظمی (اعظم گڑھ)، ڈاکٹر نوشاد علی (گورکھپور)، ڈاکٹر فضیلہ سرفراز (دہلی)، ڈاکٹر پرواز علوم (الٰہ آباد)، ڈاکٹر فرحان خورشید (پٹنہ)، محمد یعقوب (ہگلی، مغربی بنگال) اور فرحت قدیر یعقوب (ہگلی، مغربی بنگال) شامل تھے۔ تمام شرکاءکا شکریہ ڈاکٹر ایس ایم احسن اعجاز نے ادا کیا۔
No Comments: