Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی والوں کے ساتھ فراڈ کا بی جے پی سرکار کا ایک سال :منیش سسودیا

خواتین ،آلودگی کنٹرول ،مڈل کلاس ،نوجوانوں و غریبوں سمیت پوری دہلی کے ساتھ دھوکہ

نئی دہلی، 20فروری(میرا وطن)
عام آدمی پارٹی نے دہلی کی بی جے پی سرکار کے ایک سالہ دورِ اقتدار کا رپورٹ کارڈ پیش کرتے ہوئے اسے ہر شعبے میں ناکام قرار دیا۔ پنجاب انچارج اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے رپورٹ کارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سرکار کا ایک سال دہلی والوں کے ساتھ سراسر فراڈ کا سال رہا ۔ ریکھا گپتا سرکار نے پورے سال دہلی کی خواتین، آلودگی کنٹرول، مڈل کلاس، نوجوانوں اور غریبوں سمیت پوری دہلی کے ساتھ دھوکہ کیا۔ خواتین کو 2500روپے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا، دہلی کو سب سے زیادہ آلودہ شہر بنا دیا، نقلی یمنا بنا کر دکھاوا کیا اور غریبوں کی جھگیاں مسمار کر دیں۔
جمعہ کو آپ ہیڈکوارٹر میں دہلی پردیش صدر سورو بھاردواج اور سینئر لیڈر و رکن اسمبلی کلدیپ کمار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئےمنیش سسودیا نے کہا کہ بی جے پی سرکارمیں نوکری سے نکالے گئے ایک لاکھ نوجوان گھروں میں بیٹھ کر ماتم منا رہے ہیں، سڑکوں کے گڑھوں میں گر کر لوگ جان گنوا رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اپنے ایک سال مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہیں۔ایک سال میں سرکا ری اسکول، اسپتال، پانی کی فراہمی سمیت تمام عوامی سہولیات کو تباہ حال کر دیا گیا ہے، اس لیے اب دہلی کے عوام کو اروند کیجریوال یاد آ رہے ہیں۔منیش سسودیا نے بی جے پی سرکار کی ایک سالہ ناکامیوں پر حملہ بولا۔ ایک سال، دہلی بدحال، یاد آ رہے کجریوال پوسٹر کی نمائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 20فروری 2025کو دہلی میں بی جے پی کی سرکار بنی تھی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک سال میں سب کچھ بدل جانا چاہیے تھا، لیکن گزشتہ ایک سال میں دہلی کے عوام نے ریکھا گپتا سرکار کے کئی فراڈ دیکھے۔ ایک طرح سے پورا سال دہلی والوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔
منیش سسودیا نے کہا کہ بی جے پی نے سب سے بڑا دھوکہ دہلی کی آدھی آبادی یعنی خواتین کے سا تھ کیا۔ انتخاب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہر ماہ 2500روپے دینے کی گارنٹی دی تھی اور کہا تھا کہ یہ مودی کی گارنٹی ہے۔اعلان کیا گیا تھا کہ 8مارچ 2025سے خواتین کے کھاتوں میں رقم آنا شروع ہو جائے گی، لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود وعدہ پورا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ آلودگی کنٹرول کے نام پر بھی دہلی والوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ کجریوال سرکار کے دوران ڈسٹ کنٹرول، آگ پر قابو، گاڑیوں کی نگرانی اور آڈ-ایون جیسے اقدامات ہوتے تھے، لیکن بی جے پی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ اس بار دہلی نے تاریخی طور پر بدترین ہوا کا سامنا کیا۔ الزام ہے کہ اے کیو آئی مراکز کے ڈیٹا میں بھی گڑبڑ کی گئی اور کئی مراکز بند یا سرسبز علاقوں میں منتقل کر دیے گئے۔منیش سسودیا نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی فیس میں 30سے 80فیصد بلکہ دوگنی-تین گنا اضافہ ہوا۔ سرکار نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ والدین احتجاج پر مجبور ہوئے اور کئی بچوں کو ایڈمٹ کارڈ تک نہیں دیے گئے۔سرکارنے قانون تو بنایا مگر کسی اسکول کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ ایک سال میں کسی اسکول کی فیس کم نہیں ہوئی۔کجریوال دور میں قائم اسکول آف اسپیشلائزڈ ایکسیلنس کو بند کر دیا گیا اور ان کا نام بدل دیا گیا۔ ہیپی نیس کریکولم اور انٹرپرینیورشپ کریکولم بھی بند کر دیے گئے۔ اساتذہ کی بیرون ملک تربیت روک دی گئی۔
انتخاب سے پہلے جہاں جھگی وہیں مکان کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن حکومت بننے کے بعد جھگیاں مسمار کی گئیں اور غیر مجاز کالونیوں پر بلڈوزر چلایا گیا۔چھٹھ پوجا سے قبل اعلان کیا گیا کہ یمنا صاف ہو گئی ہے، لیکن اسے محض دکھاوا قرار دیا گیا۔عارضی ملازمین میں سے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو نوکری سے ہٹا دیا گیا۔بس مارشلوں کو مستقل کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ ہزاروں کو نکال دیا گیا۔ محلہ کلینک بند کیے گئے اور طبی عملہ بے روزگار ہوا۔سرکاری اسپتالوں میں مفت دوائیں اور ٹیسٹ بند ہو گئے۔ زیر تعمیر 24 اسپتالوں کا کام روک دیا گیا۔کچرے کے پہاڑ کم نہیں ہوئے، بلکہ شہر بھر میں گندگی پھیلی ہوئی ہے۔جگہ جگہ سیور اوور فلو اور گھروں میں گندا پانی آ رہا ہے۔گڑھوں کی وجہ سے حادثات اور اموات ہو رہی ہیں۔لاکھ راشن کارڈ منسوخ کیے گئے اور بیوا ¶ں و بزرگوں کی پنشن بند کر دی گئی۔جنوری کے صرف 15 دن میں 800 افراد لاپتہ ہوئے اور روزانہ کئی قتل کے واقعات پیش آئے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ چار انجن والی سرکارعوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی سرکارکا ایک سال دہلی والوں کی زندگی کو بدحال کرنے والا ثابت ہوا ہے اور عوام کو شدت سے اروند کیجریوال یاد آ رہے ہیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *