Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

بلٹ ٹرین کےلئے1 لاکھ کروڑ، مگر بندیل کھنڈ میں ریلوے کےلئے5 فیصد بھی نہیں : راگھو ٹھاکر

ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے موت کا وارنٹ ہے:سنجے سنگھ

جنتر منتر پر زبر دست مظاہرہ ،سرکار کی امتیازی پالیسی کے خلاف ہولی پر احتجاج کی کال

دہلی، 13 فروری(میرا وطن)
اگر سرکار آبادی کے حساب سے بجٹ مختص کرے تو بندیل کھنڈ جیسے خطوں کی پسماندگی، بے روزگاری اور غربت کو دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، حکومت بلٹ ٹرین پر ایک لاکھ کروڑ خرچ کر سکتی ہے، لیکن بندیل کھنڈ کو جس ریلوے لائن کی ضرورت ہے، اس کے لیے 5ہزار کروڑ روپے بھی نہیں دینا چاہتی۔ اسے صحیح پالیسی کے ساتھ درست کیا جا سکتا ہے۔یہ بات معروف سماجوادی مفکر اور عوامی لیڈر رگھو ٹھاکر نے آج دہلی کے جنتر منتر پر بندیل کھنڈ آل پارٹی سول سٹرگل فرنٹ کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر رگھو ٹھاکرنے سرکار کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف علامتی احتجاج کا آغاز آئندہ ہولی سے کرنے کا مطالبہ کیا۔ بندیل کھنڈ، چھتیس گڑھ اور ودربھ کے لوگ احتجاج میں شامل ہونے اور حمایت کرنے آئے۔ رگھو ٹھاکر کی قیادت میں، یہ احتجاج 2009 سے ہر سال سردیوں میں منعقد کیا جاتا ہے ۔ اس سال کے احتجاج میں بنیادی طور پر ہندوستانی ہاکی کے فخر میجر دھیان چند اور ساگر یونیورسٹی کے بانی ہری سنگھ گور کے لیے بھارت رتن ایوارڈ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس پروگرام کے اہم مطالبات میں بندیل کھنڈ کو ریل خدمات سے جوڑنا اور خطے میں سیاحتی سرکٹ تیار کرنا شامل ہے۔ جن راستوں کے لیے ریل خدمات مانگی گئی ہیں ان میں بھنڈ-بندہ-مہوبہ، للت پور-ساگر، ساگر-چھندواڑہ، چھتر پور-ساگر، جھانسی-شیو پوری، اور للت پور-چندری شامل ہیں۔
احتجاج کے بعد وزیر اعظم، وزیر ریلوے اور وزیر جنگلات کو یادداشت پیش کی گئی۔ احتجاج سے راجیہ سبھا کے رکن اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ سمیت کئی شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنی تقریر میں سنجے سنگھ نے مرکزی سرکار کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل عوام مخا لف اور کسان مخالف فیصلے لئے جا رہے ہیں۔ حالیہ ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدہ اس کا تازہ ترین ثبوت ہے جس میں امریکہ ہندوستانی اشیا پر من مانی درآمدی ٹیکس لگا رہا ہے جبکہ امریکی سامان کو ہندو ستان میں داخل ہونے کی مکمل آزادی فراہم کر رہا ہے۔ یہ کوئی معاہدہ نہیں ہے بلکہ کسانوں کے لیے دستخط شدہ ‘ڈیتھ وارنٹ’ ہے، جس سے ہندوستانی کسانوں کی بربادی ہوتی ہے جبکہ امریکی کسا نوں کے منافع کو فروغ دینے کی اجازت دی جاتی ہے، جنہیں سرکار کی خاطر خواہ سبسڈی ملتی ہے۔
سنجے سنگھ نے بی جے پی کی سرکار کو ’ہندوستانی جملا پارٹی‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ سالانہ 2کروڑ نوکری پید ا کرنے، فصلوں کی قیمتوں کو دوگنا کرنے اور ہر اکاو ¿نٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے جیسے وعد ے پورے نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے بجائے ملک بھر میں ایک لاکھ اسکول بند ہو چکے ہیں، فی کس آمد نی میں کمی آئی ہے اور ملک ترقی کے لحاظ سے 142ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ سنجے سنگھ نے ان پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کو سڑکوں سے پارلیمنٹ تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کانگریس کے سابق ایم ایل اے تارور سنگھ، عام آدمی پارٹی کی لیڈر شریمتی۔ انیتا سنگھ، ڈیموکریٹک سماج وادی پارٹی کے قومی صدر شمبھو دیال بگھیل، نائب صدور شیام سندر یادو اور مکیش چندر، جاوید ایل ایس پی جنرل سکریٹری، مدھیہ پردیش کی صدر وندھیاشوری پٹیل، ہرپال سنگھ جینت تومر، ستیش بھار تیہ برج کشور جین (للت پور)، انوپ چتر سنگھ، اشتھار سنگھ (للت پور) مسورہی سے فتح پور دیا شنکر شرما کے پروین پانڈے، دھیریندر پاسوان، نثار قریشی، حکیم اصغر خان شیو نیتم (دھمتری، چھتیس گڑھ)، ڈا کٹر شیوا سریواستو، آپ کے شری سرویش مشرا وغیرہ نے احتجاج میں آئے لوگوں سے خطاب کیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *