
نئی دہلی،7 فروری (میرا وطن)
سرہدی گاندھی میموریل سوسائٹی (ایس جی ایم ایس ) کے زیراہتمام نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی ) میں آئیڈیا آف انڈیا کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔یہ کانفر نس عظیم مجاہد آزادی اور بھارت رتن خان عبدالغفار خان (بادشاہ خان) کے یوم پیدائش کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی۔ کانفرنس کا مقصد ہندوستان کی جمہوری، آئینی اور جامع اقدار پر مبنی ’آئیڈیا آف انڈیا‘کے تصور پر سنجیدہ بحث کو فروغ دینا تھا۔
کانفرنس میں معروف دانشوروں، ادیبوں، مورخین، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کلیدی مقررین میں پروفیسر رام پنیانی، گوہر رضا، اشوک کمار پانڈے، ڈاکٹر روچیکا شرما، پروفیسر اخلاق احمد، جان دیال، ایڈوکیٹ سید جلال الدین، اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سیڈ کے فیضان شامل تھے جنہوں نے نفرت کے ماحول میں محبت کی شمع روشن کرنے پر زور دیا۔
منتظمین نے کہا کہ یہ کانفرنس عصر حاضر میں جمہوریت، سیکولرازم، سماجی انصاف اور باہمی بھائی چار ے جیسی اقدار پر مکالمے کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ بادشاہ خان کے نظریات اور ان کی عدم تشدد کی جدوجہد سے متاثر ہوکر دنیا انہیں سرحدی گاندھی کے نام سے جانتی ہے، پروگرام میں ہندوستان کے مشترکہ ورثے اور آئینی اقدار کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ایس جی ایم ایس کے سربراہ ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے کہا، “فرنٹیئر گاندھی ہندوستان کے عظیم مجا ہدین آزادی میں سے ایک ہیں جنہوں نے ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کی اور کھل کر پاکستان کی مخالفت کی، اور پاکستان کے قیام کے بعد بھی اس کے کھلے عام مخالف رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ پٹھانوں کو ہر حال میں ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہیے اور وہ پاکستانیوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔
ڈاکٹر رام پنیانی نے وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر نام تبدیل کرنا ہے تو امیت شاہ کو پہلے اپنے نام سے لفظ “شاہ” ہٹانا چاہیے، کیونکہ یہ ایران سے نکلا ہے۔سائنسدان گوہر رضا کا کہنا تھا کہ ’تمام مذاہب کو اپنے اپنے انتہا پسندوں کی مخالفت کرنی چاہیے، تب ہی نفرت کا خاتمہ ہوگا۔ ہمیں خان عبدالغفار خان جیسے مجاہدین آزادی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کیونکہ وہ حقیقی ہندوستانی تھے اور وہ ہر حال میں ملک کو ایک رکھنا چاہتے تھے۔
تاریخ داں ڈاکٹر روچیکا شرما نے کہا کہ میں نے خان عبدالغفار خان کے بارے میں اپنے دادا دادی سے سنا، جس کے بعد میں نے ان کے بارے میں جانا اور دریافت کیا کہ خان عبدالغفار خان وہ تھے جنہوں نے اتحاد اور بھائی چارے کی بات کی تھی اور کسی بھی صورت میں ملک کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔
پروفیسر اخلاق احمد نے کہا، “خان عبدالغفار خان ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی پاکستانی جیل میں قید رہے۔ مقررین نے کہا کہ انڈین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہم گاندھی کو بھول چکے ہیں جس طرح ہم گوتم بدھ کے اصولوں کو بھول گئے ہیں۔
پروگرام کے اختتام پر مہاراشٹر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا پوار کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت وطن سماچار کے ایڈیٹر محمد احمد نے کی۔ اس موقع پر عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔
No Comments: