
نئی دہلی،6فروری(میرا وطن)
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر پر راجیہ سبھا میں شکریہ کی تحریک کے دوران کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے ایوان بالا کے سامنے ملک کے تازہ حالات رکھ کر برسراقتدار طبقہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز کچھ اس الفاظ میں کیا ”جب پارلیمنٹ کے گلیاروں میں سرکار کی تعریف کرتی ہوئی صدر جمہوریہ کی آواز گونج رہی تھی، تو ہسدیو کے جنگلوں میں قبائلیوں کو زندگی د ینے والے درختوں پر کلہاڑی کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ایک طرف صدر محترم کی تقریر پر وزیر اعظم میز تھپتھپا رہے تھے، دوسری طرف اتراکھنڈ کی انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کے لیے آواز مدھم ہو رہی تھی اور پوچھ رہی تھی کہ وہ کون وی آئی پی ہے، جس کے لیے انکیتا بھنڈاری کا قتل کر دیا گیا۔
عمران پرتاپ گڑھی نے راجیہ سبھا میں اپنی آواز مضبوطی کے ساتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’یہاں صدر محترم سماجی انصاف کی بات کر رہی تھیں، ادھر اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں نفرتی لوگوں سے بزرگ کو بچانے وا لے دیپک کے خلاف پولیس سنگین دفعات میں مقدمہ درج کر رہی تھی۔ بی جے پی کے ’نئے ہندوستا ن‘ میں فسادیوں کے خلاف ایف آئی آر نہیں ہوتی، بلکہ امن و محبت کی بات کرنے والوں پر ایف آئی آر ہوتی ہے۔‘ وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ’آسام کے وزیر اعلیٰ بر سرعام آئینی پروٹوکول توڑ کر کہتے ہیں ۔ مسلمانوں کو اتنا ٹارچر کرو کہ ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی کی سرکار میں اقلیتی طبقہ کو مستقل نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موجودہ حالات کو فکر انگیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بریلی کے خالی گھر میں نماز پڑ ھنے والوں پر پولیس مقدمہ درج کرتی ہے، کرسمس کی تیاری کرتے ہوئے عیسائیوں کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے، مدھیہ پردیش کے بیتول میں محمد نعیم کے بنوائے اسکول پر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے، بنارس کی دال منڈی میں عدالت کا اسٹے ہونے کے بعد بھی سینکڑوں دکانوں کو توڑ دیا جاتا ہے، جموں و کشمیر میں نیٹ کوالیفائی کرنے والے 42 مسلم بچوں کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو جاتا ہے تو اس کی منظوری رَد کروا کر جشن منایا جاتا ہے۔بی جے پی لیڈران کے ذریعہ ملک کی معزز شخصیات کو گالیاں دیے جانے پر عمران پرتاپ گڑھی نے شدید فکر کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’جو نسل اپنے بزرگوں کو گالی دیتی ہے، قدرت اس کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔ بی جے پی کے لوگ نہرو جی، اندرا جی کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں، لیکن یہ کبھی نہرو جی کو چھوٹا نہیں کر پائیں گے۔ وہ یاد رکھیں، نہرو جی کا نام ’آئنسٹائن‘ کے ساتھ لیا جاتا ہے اور نریندر مودی کا نام ’ایپسٹین‘ کے ساتھ۔‘ عمران پرتاپ گڑھی جب اپنی باتیں راجیہ سبھا میں رکھ رہے تھے تو کچھ مواقع برسراقتدار طبقہ کے لیڈران نے ہنگامہ بھی کیا، لیکن کانگریس رکن پارلیمنٹ اپنی بات کہتے چلے گئے۔ خاص طور سے آخر میں ایوان کی کارروائی سنبھال رہے ہری ونش نے کہا کہ قابل اعتراض الفاظ ریکارڈ میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔
No Comments: