
نئی دہلی ،17جنوری (میرا وطن نیوز):دیہی ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے سرگرم وائف سویپنگ کے حساس اور چونکا دینے والے سو شل نیٹ ورک پر مبنی سینئر صحافی ونیتا یادو کی تحقیقاتی کتاب ہندوستان میں بیوی ادلا -بدلی ’وائف سویپنگ ان رورل انڈیا‘ عالمی کتا ب میلے میں اجراکی گئی۔یہ کتاب ایک پریشان کن معاشرتی عمل کو بے نقاب کرتی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے دیہی ہندوستان میں خاموشی سے جاری ہے۔عالمی کتاب میلہ بھارت منڈپم (پرگتی میدان )کے ہال دو اور تین میں سا بق چیف جسٹس آف انڈیاکے جی بالا کرشنن کے ذریعہ کتاب کا اجراء کیا گیا۔
سابق چیف جسٹس آف انڈیا کے جی بالاکرشنن نے کتاب کا پیش لفظ لکھتے ہوئے اور اس کے اجراءکے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستانی معاشرے کے ایک ایسے چہرے کو ظاہر کرتی ہے جس پر اکثر پردہ پڑا رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ سمجھنے اور سوال کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔
کتاب کی رونمائی کے موقع پر سابق چیف جسٹس جی بالا کرشنن ،چیف ایکزیکیٹو افسر وانی پبلیکیشن گرو پ ادیتی ماہیشوری گوئل اور صحافی اور پروگرام کی روح رواں سوئپنل سارسوت ،قارئین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس واقعہ سے جو واضح پیغام سامنے آیا وہ یہ تھا کہ دیہی ہندوستا ن کے مثالی اور مقدس تصور کے پیچھے بہت سی ان کہی اور نادیدہ سچائیاں ہیں۔’وائف سویپنگ ان رو رل انڈیا‘ کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ اس سماجی خاموشی کے خلاف ایک دستاویز ہے جسے توڑنا اب بھی ناگوار سمجھا جاتا ہے۔
کتاب کی رونمائی کے موقع پر ونیتا یادو نے بتایا کہ انہوںنے اس مدعے پر تقریباً 20 سال قبل اپنی آن دی گرا ؤنڈ رپورٹنگ کی تھی۔ اس وقت، یہ عمل دائرہ کار میں محدود تھا، لیکن آج، یہ نیٹ ورک زیادہ منظم ، تکنیکی طور پر فعال، اور سماجی طور پر پوشیدہ ہے۔ونیتا یادو کے مطا بق، د یہی علاقوں میں بیویوں کی ادلا – بدلی میں ملوث افراد اب بھی واٹس ایپ گروپس، فیس بک اور نجی ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے ذریعے سرگر م اور جڑے ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے اس نیٹ ورک کو مضبوط کیا ہے، جبکہ معاشرہ اس معاملے پر خامو ش ہے۔
مصنفہ ونیتا یادو نے واضح کیا کہ یہ کتاب سنسنی خیزی یا افواہوں پر مبنی نہیں ہے، بلکہ طویل المدتی تحقیقا تی صحا فت ، براہ راست تجربے اور زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ کتاب یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب معاشرہ روا یت اور ثقافت سے چمٹا ہوا ہے تب بھی اس طرح کے رواج خاموشی سے کیسے پنپتے رہتے ہیں۔
No Comments: