Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

مر حوم اے آر شروانی (احمد رشید شروانی) کوسیاست دانوںاور دانشوروں نے خراج عقیدت پیش کی

بھارت سیوا ٹرسٹ اور شروانی فیملی کی جانب سے انڈیا انٹرنیشنل سینٹردہلی میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد

نئی دہلی،6اپریل(میرا وطن نیوز )
بھارت سیوا ٹرسٹ اور شروانی فیملی کی جانب سےگزشتہ روز انڈیا انٹرنیشنل سینٹر لودی روڈ نئی دہلی میں مر حوم اے آر شروانی (احمد رشید شروانی) کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ سابق گورنرکیرالہ اور بہار عارف محمد خان، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید،سابق مرکزی وزیر سلیم اقبال شیر وانی، سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، ڈاکٹر اسلم پرویز انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے سابق صدر سراج الدین قریشی،انجمن ترقی اردو ہندسکر یٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی، مسلم مجلس مشاورت دہلی صدر ادریس قریشی، ایڈوکیٹ سکندر حیات خان، اور سینئر وکیل فرید شیروانی سمیت سینکڑوں لوگوں نے مرحوم کو یاد کیا۔ شیروانی پہنائی اور خراج عقیدت پیش کیا۔
مرحوم کی بیٹی آمنہ شیروانی نے پروگرام کی نظامت کی جبکہ ان کی دوسری بیٹی آسیہ شیروانی نے تمام مہما نوں کا شکریہ ادا کیا۔ مرحوم شیروانی کی اہلیہ نصرت شیروانی نے اپنے تمام مداحوں بشمول ان کی چاہنے والوں سے اپیل کی کہ وہ جو کام انجام دے رہے تھے اسے آگے بڑھائیں۔
مرحوم اے آر شروانی کو یاد کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر خارجہ اور ان کے بھتیجے سلیم اقبال شیر وانی نے کہا، ’ہم نے الہ آباد میں اپنی جیپ کمپنی میں ان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا۔ ہم انہیں پیار سے منو چاچا کہتے تھے۔ آج میں جو ہوں اس میں چچا کا بہت بڑا کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ کس طرح سے مرحوم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی اپنائیت بیان کی تھی جس کی وجہ سے میں نے اے ایم یو سے تعلیم حاصل کی۔ سلیم شروانی نے کہا کہ وہ ایک عظیم شخصیت تھے انہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ اپنے تمام ساتھیوں کو محبت بانٹنے کا طریقہ سکھایا۔ میں نے اپنی زندگی سیاست اور کاروبار میں جو مقام حاصل کیا ہے اس میں منّو چچا کا اہم رول ہے۔
سابق بیوروکریٹ اور اسلامک کلچرل سینٹر کے ایگزیکٹیو ممبر خواجہ محمد شاہد نے مرحوم کی تعلیمی اہمیت کے تعلق سے ہوئی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سے بابری مسجد کی شہادت کو بچانے کے لیے مرحوم نے وشو ہند پریشد کے سربراہ اشوک سنگھل سے ملاقات کی تھی۔ اس سلسلے میں دونوں کے د رمیان لال سلام کے ذریعہ گفتگو آگے بڑھائی گئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل نہیں کرا سکے۔
سینئر صحافی اور نئی دنیا کے ایڈیٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ میں نے مرحوم کے ساتھ تقریباً پچاس برس گزا ر ے۔ وہ ہم سب کے لیے مشعل راہ تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کو مین اسٹریم میں لانے کو اپنا مقصد بنایا۔ وہ مسلمانوں کی حالت پر روتے نہیں تھے بلکہ اس کا راستہ تلاش کرتے تھے۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اعجاز مقبول نے بتایا کہ میں نے شروانی اسکولر شپ کی بدولت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہائر ایجوکیشن تعلیم حاصل کی۔ جس کی بدولت مجھے اس زمانے میں اسکولر شپ نے نمایاں بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ انہوںنے کہا کہ مرحوم اے آر شروانی کی تربیت کا یہ نتیجہ نکلا کہ میں نے اپنے ڈرائیور کے بیٹوں کو بہت اچھے سے تعلیم دلائی اور آج ان کے دو بیٹے بہترین وکیل ہیں۔
سینئر صحافی معصوم مرادآبادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شروانی صاحب کے تقریباً چالیس سال تک سا تھ رہا۔ اس دوران کبھی نرمی تو کبھی جھڑپ بھی ہوئی اور ان سے سیکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ مرحوم میں اتنی جرائت مندی تھی کہ اپنی کمیٹی کے اندر رہ کر اپنی کمیونٹی کے خلاف بات کرنے کی ان میں ہمت تھی۔ انہوںنے سہارنپور کے ایک اجلاس کا بھی ذکر کیا۔ اس اجلاس میں مرحوم شروانی نے اپنی تقریر کے دوران اتنے سخت الفاظ استعمال کئے کہ مجمع بضد ہوگیا کہ شروانی صاحب معافی مانگیں لیکن انہوں نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ ان کی تحریروں میں طنز و مزاح خوب نظر آتا ہے۔ اگر اخبارات میں شائع ان کی تحریروں کو جمع کیا جائے تو ایک کتاب بن سکتی ہے۔
مسلم مجلس مشاورت صدر فیروز انصاری اور سابق صدر نوید حامد نے بتایا کہ مرحوم نے مسلم مجلس مشاو ر ت کی خوب مدد کی اور آگے کیسے کام کیا جائے۔ اس پر بھی وہ ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ سعید شروانی، علیزہ نور خان، مہیش چندر شرما اور جاوید انصاری وغیرہ نے بھی مرحوم کی خصوصیات کو بیان کیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *