
ایسا تو نہیں وزیر اعظم کی ایران سے گفتگو مردے کو انجیکشن لگانے کے مترادف ثابت ہوئی؟
نئی دہلی، 13مارچ(میرا وطن نیوز)
عام آدمی پارٹی نے ایل پی جی گیس کے بحران سے جوجھ رہے ملک کے لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا ہو نے پر مجبور کرنے کے بعد ایران سے بات چیت کرنے پر وزیراعظم مودی پر حملہ کیا ہے۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کجریوال اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے نریندرمودی سرکارکی خارجہ پالیسی پر بھی شد ید تنقید کی ہے۔ اروند کجریوال نے وزیراعظم سے سوال کیا ہے کہ کیا ایران کے صدر کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہمارے جہازوں کو آبنائے ہرمز کے سمندری راستے سے گزرنے دیں گے؟ کیا ملک کے عوام کو تیل اور گیس کے اس سنگین بحران سے جلد نجات ملنے والی ہے؟
جمعہ کو پارٹی ہیڈ کوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں آپ کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ جب آج ہمارا ملک خود بحران میں مبتلا ہے تو مودی جی نے بنگلہ دیش کو 60 لاکھ لیٹر تیل کیوں دیا؟ یہ بات مودی جی کے اندھ بھکتوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایران کے صدر سے و زیراعظم مودی کی گفتگو پر کہا کہ وزیراعظم کو بتانا چاہیے کہ کیا ایران کے صدر سے بات چیت کا کوئی نتیجہ نکلا؟ کیا آبنائے ہرمز کے راستے سے بھار ت کے جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہوگی؟ یا پھر وزیراعظم کی یہ کارروائی مردے کو انجیکشن لگانے کے مترادف ثابت ہوئی؟
سنجے سنگھ نے کہا کہ جب پورا ملک قطاروں میں کھڑا ہو گیا اور ہماری خارجہ پالیسی دم توڑ گئی تو وزیراعظم اسے زندہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ سے پوچھ کر ہی مودی جی ہر کام کرتے ہیں، تو کیا ٹرمپ کے کہنے پر مودی جی نے ایران سے بات کی اور ٹویٹ کیا؟ انہوں نے امریکہ کے ساتھ کھڑ ے ہونے پر بھی وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس امریکہ کی مودی جی چاپلوسی کر رہے ہیں وہی امریکہ ایک بار پھر بھارت پر ٹیرف لگانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ امریکہ کے جہاز تباہ کیے جا رہے ہیں، جو خود اپنی مدد نہیں کر پا رہا اس کا پچھلگّو بننے سے بھارت کو کیا فائدہ ہوگا؟
سنجے سنگھ نے کہا کہ جمعرات کو بھارت کے وزیر اعظم نے ایران کے صدر سے بات چیت کی اور اس پر ایک طویل ٹویٹ بھی کیا۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ عام آدمی پارٹی اور اروند کجریوال شروع سے جو کہہ رہے تھے وہی درست تھا۔ ہم مسلسل کہہ رہے تھے کہ بھارت کو ایران سے بات چیت کرنی چاہیے اور اپنے قومی مفادات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایران بھارت کا روایتی دوست رہا ہے جس نے توانائی کے شعبے میں ہمیشہ تحفظ فراہم کیا ہے اور سستے داموں پر روپے میں تیل فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ ایران پر حملے کے بعد انہوں نے آٹھ ممالک کے سربراہان سے تو بات کی لیکن ایران سے گفتگو نہیں کی۔ مودی جی کے حامی کہتے تھے کہ اپوزیشن کو خارجہ پالیسی کی کیا سمجھ، سب کچھ ایک ہی مہان انسان کو معلوم ہے۔
No Comments: