
نئی دہلی، 14مارچ(میرا وطن نیوز )
دہلی میں مبینہ فرضی شراب گھوٹالہ کی سازش کے معاملے میں بے نقاب ہونے کے بعد اب معروف ماحو لیاتی سائنس داں سونم وانگچک کی گرفتاری کے معاملے میں بھی مودی سرکارکی ایک اور حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ سونم وانگچک کیس میں عدالت میں مسلسل ہو رہی سبکی کے بعد مرکزی سرکارنے اپنی مزید بدنا می سے بچنے کے لیے قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت ان کی حراست کا حکم واپس لے لیا۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اس فیصلے پر عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال سمیت دیگر سینئر رہنما ¶ں نے وزیر اعظم نریندر مودی پرحملہ کیا ہے۔ پارٹی رہنما ¶ں نے اسے آمریت کی انتہا قرار دیتے ہوئے اس پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ کے دہلی انچارج سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آج سے تقریباً چھ ماہ یعنی لگ بھگ 170دن پہلے لداخ کے ایک نہایت مشہور سائنس داں کو مرکزی حکومت نے قومی سلامتی قانون (این ایس اے ) کے تحت اس الزام میں گرفتار کر لیا تھا کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ حالانکہ انہوں نے لداخ اور بھارتی فوج کے لیے بے شمار ایجادات کی ہیں اور غریب بچوں کو تعلیم دینے کے لیے پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں
No Comments: