
نئی دہلی، 24مارچ(میرا وطن نیوز )
دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے منگل کو اسپیکر کو خط لکھ کر ایوان میں اپوزیشن کی عدم موجود گی پر سوال اٹھائے جانے پر شدیدردعمل ظاہر کیاہے۔ انہوں نے اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن کی غیر حاضری کو جمہوری ذمہ داری کی خلاف ورزی قرار دینے پر کہا کہ اپوزیشن کے اراکین اسمبلی کو غیر آئینی طریقے سے بار بار معطل کر کے ان کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ہمار ے اراکین اسمبلی کی معطلی واپس لی جائے، اس کے بعد اپوزیشن کے تمام اراکین بجٹ اجلاس میں ضر ور شریک ہوں گے۔
آتشی نے اسمبلی اسپیکر کو لکھے گئے خط میں ان کے بیان کو مکمل طور پر نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے اسمبلی کو ایک جمہوری ادارے کے طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور اپوزیشن کی آواز کو منظم طریقے سے دبایا جا رہا ہے، جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو معمولی اشتعال پر معطل کر کے ایوان سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔
آتشی نے اپنے خط میں اس آمرانہ طرزِ عمل کی سب سے واضح مثال کے طور پر سرمائی اجلاس کے دور ان اپوزیشن کے چار اراکین اسمبلی،سنجیو جھا، کلدیپ کمار، جرنیل سنگھ اور سوم دت،کی معطلی کا ذکر کیا، جنہیں نہ صرف پورے اجلاس کے لیے ایوان سے باہر رکھا گیا بلکہ اسمبلی احاطے میں داخلے تک کی اجازت نہیں دی گئی، اور اجلاس ختم ہونے کے بعد بھی انہیں کمیٹی کی میٹنگوں میں شرکت سے روکا گیا۔ یہ نظم و ضبط نہیں بلکہ ان کی آواز کو کچلنے کے مقصد سے دی گئی سزا ہے۔
آتشی نے ایوان کی کارروائی میں اپنائے جا رہے دوہرے معیار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جہا ں بی جے پی کے اراکین کی جانب سے دو دن تک ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے پر کوئی کاررو ائی نہیں کی گئی، وہیں اپوزیشن اراکین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جو دہلی اسمبلی کی تاریخ میں بے مثال ہے۔آتشی نے واضح کیا کہ اپوزیشن بجٹ اجلاس میں حصہ لے کر دہلی کے عوام کے مسائل کی نمائندگی کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، اور اسی جذبے کے تحت آپ اراکین اسمبلی کے ایک وفد نے 21 مارچ 2026 کو اسپیکر سے ملاقات کر کے تعمیری شرکت کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔
خط کے آخر میں آتشی نے زور دے کر مطالبہ کیا کہ چاروں اراکین اسمبلی کی معطلی فوری طور پر ختم کی جا ئے ، کیونکہ خوف، بائیکاٹ اور جانبدارانہ کارروائی کے ماحول میں بامعنی شرکت ممکن نہیں ہے، اور جیسے ہی معطلی واپس لی جائے گی، اپوزیشن کے تمام اراکین ایوان کی وقار، غیر جانبداری اور ساکھ کو بحال کرنے کے لیے مکمل ذمہ داری کے ساتھ کارروائی میں حصہ لیں گے۔
No Comments: