
نئی دہلی،27جنوری (شہاب الدین /میرا وطن)
’قرآنِ کریم صرف عقائد و عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت اور کامل ضابطہ حیات ہے جو انسا ن کو فکر و شعور، عمل و کردار اور علم و سائنس کے ہر میدان میں روشن اور ابدی رہ نمائی عطا کرتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے جہاں روحانی اور اخلاقی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے، وہیں سائنسی حقائق، قدرتی قو ا نین اور کائنات کے نظام کو سمجھنے کے لیے بھی واضح اشارات دیے ہیں۔’ان خیالات کا اظہار پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈائریکٹر سیمینار اورڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈلینگویجز نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز، و لا یت فاؤنڈیشن اور شہید بہشتی یونیورسٹی تہران،ایران کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والے تیسر ے سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار کی پریس کانفرنس میں کیا۔
جامعہ ملیہ سلامیہ کے نہرو گیسٹ منگل کومنعقد پریس کانفرنس میں پروفیسر اقتدار محمد ،ولایت فاؤنڈیشن کے چیئر مین مولانا تقی حیدر نقوی ،دی لیڈر س میڈیا کے ڈائریکٹر اشرف زیدی ،کانفرنس کے کوآرڈ ینیٹرڈا کٹر حیدر رضا ضابت،ڈاکٹر محمد مشتاق ،ڈاکٹر حیدر رضا ڈاکٹر محمد ارشد ،ڈاکٹر جاود اختربطور خاص موجود تھے۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب 28 جنوری بروز بدھ دوپہر 2:30بجے ڈاکٹر مختار احمد انصار ی آڈیٹوریم میں منعقد ہوگی۔علمی نشستیں 29 جنوری بروز جمعرات صبح 9:30 بجے سے فیکلٹی آف ہیو مینٹیز اینڈ لینگو یجز میں ہوں گی۔کانفرنس کا اختتامی اجلاس30 جنوری بروز جمعہ صبح 10 بجے سے کانفر نس ہال ، سینٹر فار انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی (سی آئی ٹی)، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہوگا۔
اس موقع پر پروفیسر اقتدار محمد خان نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن تحقیق اور مشاہدے کے ذریعے انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں خاندانی نظام اور اس کے اصولوں کی روشنی میں معاصر سماجی مسائل کا جائزہ لینے کی کوشش ہوگی ۔نیز اسلامی فکر میں خاندانی نظام کی نظر یاتی بنیادوں کی معرفت کی کاوش کی جائے گی ۔پروفیسر خان نے کہا کہ کانفرنس کے موضوعات اور اس کی علمی نشستیں قدرتی ،سماجی اور انسانی علوم کی مستند علمی تفہیمات کا احاطہ کرتی ہیں اور قر آنی مطالعات کے ساتھ ان کے تعامل کو مرکز توجہ بناتی ہیں ۔
پروفیسر اقتدار محمد خان نے اس کانفرنس کے اہم مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مذہب اور سائنس کے مابین مکالمے کو فروغ دے کر بین الموضوعاتی تحقیق کو آگے بڑھانا ،بین الاقوامی سطح پر علمی تعاون کو مستحکم کرنا اور قرآنی و سائنسی مطالعات سے وابستہ اہل علم کے مابین افکار کے تبادلے کو ممکن بنانا اور مختلف سائنسی میدانوں میں قر آنی اصول معرفت کا تنقیدی مطالعہ و تجزیہ ‘با الخصوص سائنسی اور اسلامی نقطہ نظر سے عصر حاضر کے سماجی مسائل کلا مطالعہ کرنا شامل ہیں ۔
پروفیسر اقتدار محمد خان نے بتایا کہ وائس چانسلرپروفیسر مظہر آصف کی زیر سرپرستی اور رجسٹرا ر پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی رہنمائی میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی کانفرنس میں ہندوستان، ایران ، انڈونیشیا اور متعد د یورپی ممالک کے مختلف جامعات کے اساتذہ، محققین اور اہل علم کی شرکت کی امید کی جارہی ہے، جن کے ذریعے وحیِ الٰہی اور معاصر سائنسی علوم کے باہمی تعلق کا مطالعہ پیش کیا جائے گا۔
سیمینار کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد ارشدایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اسلامک اسٹڈیز نے بتایا کہ 28تا 30 جنوری تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں بین الموضوعاتی تحقیق کو فروغ دینے اور قرآنی حکمت او ر جدید سائنسی پیش رفت کے مابین پائیدار علمی مکالمے کو تقویت پہنچانے کی کوشش ہوگی،نیز اس بات کی بھی کوشش ہوگی کہ نظام علم کی ہمہ گیر نمائندگی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عصرحاضر کے سائنسی و علمی ماحو ل میں نئے فکری گوشوں و زاویوں کو تلاش کیا جاسکے۔
No Comments: