
جامعہ میں ’اسلام پر اکیسویں صدی کی مغربی علمی تحقیقات کا تنقیدی جائزہ‘پر یک روزہ سیمینار منعقد
نئی دہلی،18فروری(میرا وطن)
’ قرآن و سنت سے متعلق بعض مغربی فضلاءکے ذہنی سانچے آج بھی وہی قدیم زاویے اپنے اندر سمو ئے ہوئے ہیں جو گزشتہ صدیوں میں تشکیل پائے تھے، حالانکہ دیانت دارانہ اور معروضی تحقیق کا تقاضا یہ تھا کہ ان کے بنیادی مصادر کا براہِ راست اور منصفانہ مطالعہ کیا جاتا،تاہم سیرتِ نبوی کے باب میں اکیسویں صدی کے بعض مغربی علمی حلقوں میں نسبتاً مثبت اور متوازن رجحانات بھی سامنے آئے ہیں جو یقینا سنجیدہ علمی مکالمے کے امکانات کو تقویت دیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد فہیم اختر ندو ی، سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، نئی دہلی کے اشتراک سے منعقدسیمینار میں کیا ۔
پروفیسر ندوی نے وائس چانسلرپروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی زیر سر پر ستی منعقدہ یک روزہ قومی سیمینار بعنوان ’اسلام پر اکیسویں صدی کی مغربی علمی تحقیقات کا تنقیدی جائز ہ‘ کی افتتاحی تقریب میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان محققین جدید اسلوبِ فکر اور انگریزی زبان کی مہارت سے آراستہ ہیں، لیکن عربی زبان سے وابستگی اور اس پر عبور بھی ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر اسلام کے اصل اور مستند مصادر تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں ہے۔
ڈاکٹر محمد رضوان، ڈائریکٹرسیمینار نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کا بنیادی مقصد طلبہ میں مشاہدہ، مطالعہ اور محاکمہ جیسے اہم اور بنیادی اصولوں کے ذریعے سنجیدہ علمی مزاج پیدا کرنا اور انہیں مذاکرہ، مجادلہ، مسابقہ اورمکالمہ کے ذریعے ایسا تحقیقی ماحول فراہم کرنا ہے جس سے وہ بھی اہلِ مغرب کی طرح تحقیق و تنقید کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے سکیں۔
پروفیسر عبدالرحیم قدو ائی، ڈائریکٹر، کے اے نظامی سینٹر فار قرآنی اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے بذریعہ ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں متعدد مستشرقین کی جانب سے سیرتِ طیبہ سے متعلق کذب و افتراءپر مبنی تعبیرات سامنے آتی رہی ہیں،تاہم اکیسویں صدی میں مغرب کے بعض سنجیدہ اور منصف مزاج اہلِ علم نے آپ کی حیاتِ مبارکہ کومعروضی اور دیانت دارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ اس رجحان سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مشترکہ اخلاقی اقدار اور انسانی تعلیمات کو فروغ دینے کی راہ ہم وار ہوئی ہے۔
پروفیسر اقتدار محمد خان، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز و ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز نے اپنے صد ارتی خطاب میں مستشرقین اور اسلامیات کے آغاز و ارتقاءکا تاریخی اور فکری جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستشرقین کے مطالعہ کا اصل مرکز قرآن کریم، احادیثِ نبوی اور سیرتِ طیبہ رہا ہے۔ ان کی فکر ی کاوشوں کا بڑا رخ اس امر کی جانب رہا کہ جدید ذہن کے حامل مسلمانوں کو کیسے ان بنیادی اور مستند ماخذ سے دور کیا جائے اور اس سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، تاہم تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے خلاف جس قدرفکری و علمی محاذ قائم کیے گئے، وہ اتنی ہی قوت اور طاقت کے ساتھ ابھرتا رہا۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ قرآنِ مجید اور سیرتِ نبوی کا مطالعہ براہ راست اصل مصادر سے کریں اور تدبر کے ساتھ دین کو سمجھنے کی سنجیدہ کاوش جاری رکھیں، کیونکہ اسلام کی صحیح تفہیم قرآن وسنت کے گہرے مطالعے سے ہی ممکن ہے۔
پروفیسر کنور محمد یوسف امین، نائب صدر، سی ایس آر، نئی دہلی نے اپنے لیکچر بعنوان ’اسلامی مطالعات میں کثیر جہتی منہج کی افادیت‘ میں کہا کہ اکیسویں صدی میں اسلامی مطالعات کو محض تاریخی و لسانی منا ہج تک محدود رکھنا کافی نہیں، بلکہ اسے کثیر جہتی نقطہ ¿ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی وسعت او ر معنویت کے مطابق اس کا جامع مطالعہ کیا جا سکے۔
اس موقع پر دو علمی نشستیں منعقد کی گئیں جن میں دس مقالہ نگاروں نے مختلف موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ ان نشستوں کی صدارت پروفیسر محمد اسحق اور پروفیسر سید شاہد علی نے کی، جبکہ نظا مت کے فرائض ڈاکٹر انیس الرحمن اور ڈاکٹر محمد اسامہ نے انجام دیے۔ افتتاحی واختتامی نشست کا آغا ز شعبہ کے طالب علم محمد وسیم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض شعبہ کے سینئر استاد جنید حارث نے انجام دیے اور کلماتِ تشکر سیمینار کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد ارشد اورڈاکٹر مجتبیٰ فارو ق نے ادا کیے۔سیمینار کے کام یاب انعقاد میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے جملہ اساتذہ بالخصوص ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر محمد خالد خان، ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور ڈاکٹر جاوید اختر نیز منتظمہ کمیٹی کی کاوشیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔
No Comments: