
نئی دہلی،2 فروری (میرا وطن)
جمعیت علماءہند نے اپنے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پیر کو ا یک مفصل عرضی داخل کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے حالیہ عوامی بیان کو سنگین نفرت انگیز، فرقہ وارانہ اشتعال اور آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عرضی میں آسام کے وزیر اعلیٰ کی 27 جنوری کو دی گئی اس بیان کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ’چار سے پانچ لاکھ ’مِیاں‘ ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جائے گا‘ اور یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی ’براہِ راست مِیاوں کے خلاف ہیں‘۔عرضی کے مطابق لفظ’ مِیاں‘ آسام میں مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز اور توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔
عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کی مذکورہ تقریر، اس تناظر میں کہ وہ ایک اعلیٰ آئینی منصب پر فائز ہیں، کسی بھی طرح سے محض رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتی، بلکہ اس کا واحد اور بنیادی مقصد ایک کمیونٹی کے خلاف نفرت، عداوت اور بدخواہی کو فروغ دینا ہے۔ ایسے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے اور ایک مخصوص برادری کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو اپنے عہدے کی مریاد ا سے غداری ہے۔
جمعیت علماءہند نے سپریم کورٹ سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ وہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کی تقاریر کے لیے سخت ضابطہ اخلاق مقرر کرے ، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی شخص آئینی منصب کی آ ڑ میں فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی یا کسی کمیونٹی کو بدنام کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہو۔ ایسے ضابطے اس اصول کو مضبوط کریں گے کہ آئین اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور یہی تصور رول آ ف لاءکی بنیاد ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات آئین ہند میں دی گئی مساوات، اخوت ، سیکولرازم اور وقارِ انسانی کی ضمانتوں کو براہ راست مجروح کرتے ہیں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے تحت نہیں آ سکتے۔ جمعیت نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نفرت انگیز ی کے خلاف ازخود کارروائی (Suo Motu) سے متعلق واضح ہدایات کے باوجود ایسے بیانات کا تسلسل تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ یہ گزارش ، جمعیت علماءہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پہلے سے زیرِ سماعت نفرت انگیز ی اور اہانت رسول کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر1265/2021 میں شامل کی گئی ہے۔ اس مقد مے کی چار سالہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے، فیصلہ سنانے سے قبل جمعیت کے سینئر وکیل ایم آر شمشاد اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فرخ رشید سے چند اہم نکاتی مشورے طلب کیے ہیں کہ ان کے نزدیک ملک میں نفرت انگیزی کو روکنے کے لیے کون سے موئثر اور عملی اقدا مات ضروری ہیں۔لہِذ ا یہ عرضی اس معنی میں بہت ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، آئینی عہدوں کے غلط استعمال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امتیازی طرزِ عمل جیسے سنگین مسائل کے آئینی و قانونی پہلوﺅں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
No Comments: